طبقاتی سروے کا 16 تا 28 فروری دوبارہ انعقاد،پہلے سروے میں حصہ نہ لینے والے افراد کو موقع

   

آن لائن اور وارڈ دفاتر میں سہولت، 42 فیصد تحفظات کیلئے مارچ میں اسمبلی میں قرارداد، کُل جماعتی وفد چیف منسٹر کی قیادت میں نریندر مودی سے نمائندگی کریگا
حیدرآباد۔/12فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے طبقاتی سروے کے بارے میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سروے میں حصہ نہ لینے والے افراد کو ایک موقع فراہم کرنے کیلئے 16 تا 28 فروری سروے منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج طبقاتی سروے کے مسئلہ پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جس میں مختلف وجوہات کے سبب حصہ نہ لینے والے افراد کو تفصیلات داخل کرنے کیلئے موقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، وزیر بہبودی پسماندہ طبقات پونم پربھاکر اور چیف سکریٹری شانتی کماری نے تفصیلات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ 16 تا 28 فروری شمار کنندگان کو تفصیلات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اس فیصلہ کا مقصد طبقاتی سروے کو صد فیصد مکمل کرنا ہے۔ حالیہ سروے میں 96 فیصد خاندانوں کا احاطہ کیا گیا تھا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ طبقاتی سروے مکمل شفافیت اور سائنٹفک انداز میں مکمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شمار کنندگان کو اپنی تفصیلات سے واقف کرائیں تاکہ تلنگانہ کی حقیقی آبادی کا پتہ چلایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کیلئے 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے مارچ کے پہلے ہفتہ میں کابینی اجلاس میں قرارداد منظور کی جائے گی۔ اسمبلی میں بل کی منظوری کے ذریعہ تحفظات کو قانونی حیثیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات بل کو منظوری کے بعد مرکزی حکومت کو روانہ کیا جائے گا تاکہ پارلیمنٹ میں منظوری دی جاسکے۔ او بی سی تحفظات بل کی منظوری کیلئے مرکز پر دباؤ بنایا جائیگا۔ تحفظات کیلئے چیف منسٹر ریونت ریڈی کی زیر قیادت وفد نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی اور سیاسی پارٹیوں کے قائدین سے ملاقات کرے گا۔ وفد میں تلنگانہ کی سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو شامل کیا جائے گا تاکہ بی سی تحفظات کیلئے کئی دہوں سے جاری جدوجہد کو کامیاب کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کے خلاف سیاسی سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔ بھٹی وکرامارکا نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ سیاسی مقصد براری کو ترک کرتے ہوئے تحفظات کی تائید کریں۔ انہوں نے کہا کہ سروے میں مختلف وجوہات کے سبب شامل نہ ہونے والے افراد کیلئے دوبارہ سروے کے اہتمام کا مقصد مختلف طبقات کی حقیقی آبادی کا تعین کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنی تفصیلات آن لائن یا ٹول فری نمبر کے علاوہ منڈل دفاتر پہنچ کر داخل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سروے میں 96.9 فیصد افراد نے حصہ لیا تھا اور محض 3.1 فیصد افراد شامل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 16 تا 28 فروری صرف 3.1 فیصد افراد کیلئے سروے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر، ہریش راؤ، کے ٹی آر اور بعض دیگر قائدین نے جان بوجھ کر سروے میں حصہ نہیں لیا۔ بی آر ایس قائدین پر تنقید کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ بی سی تحفظات کے معاملہ میں بی آر ایس قائدین کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجالس مقامی کے انتخابات میں 42 فیصد تحفظات کی فراہمی میں کانگریس حکومت سنجیدہ ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس نے پسماندہ طبقات سے جو وعدے کئے تھے ان پر بہر صورت عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تحفظات بل کی منظوری سے ملک بھر میں پسماندہ طبقات کے تحفظات کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام ٹول فری نمبر سے ربط قائم کرنے پر شمار کنندے ان کے مکان پہنچ کر تفصیلات حاصل کرلیں گے۔ منڈل دفاتر میں پرجا پالنا کے عہدیدار دس دنوں میں عوام کیلئے دستیاب رہیں گے جہاں تفصیلات درج کرائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں طبقاتی سروے کے مطابق پسماندہ طبقات کی جملہ آبادی 56 فیصد درج کی گئی ہے۔1