مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے کا الزام، کریم نگر میں ایم ایل سی جیون ریڈی کی پریس کانفرنس
جگتیال۔/31جولائی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) طلاق ثلاثہ بل کی منظوری سپریم کورٹ فیصلہ کی توہین ہے ، مرکزی حکومت ایک طرف یکساں سیول کوڈ کی بات کرتی ہے تو دوسری جانب کسی ایک مذہب و طبقہ کو بدنام کرنے کیلئے منظم سازش کررہی ہے۔ ایم ایل سی ٹی جیون ریڈی نے آج اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے طلاق ثلاثہ بل کی منظوری کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ، انہوں نے کہا کہ ہندوستان سیکولر ملک ہے جہاں پر ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن مرکزی حکومت مخصوص طبقہ کو نشانہ بناتے ہوئے اس بل کو زبردستی لاگو کرنا چاہتی ہے جبکہ سپریم کورٹ طلاق ثلاثہ پر فیصلہ دے چکی ہے اور شریعت میں بھی تین طلاق کی گنجائش نہیں ہے اس کے باوجود مرکز ی حکومت ، اسلامی ممالک کا حوالہ دے رہی ہے جبکہ دنیا کے کسی ملک میں طلاق ثلاثہ پر اس طرح کی سزا کا قانون نہیں ہے۔ تین سال کی سزا کا قانون کہاںکا انصاف ہے جبکہ ازدواجی زندگی میں لڑائی جھگڑے پر قانون بنایا گیا ہے جو کسی ایک مخصوص طبقہ کیلئے نہیں بلکہ ملک کے ہر شہری کیلئے ہے، انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں ایک منصوبہ بند طریقہ سے اپوزیشن جماعتوں کو واک آؤٹ کروایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کی منظوری کیلئے 121 ووٹس درکار ہیں جبکہ 99 ووٹس سے ہی اس بل کو منظور کروایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری میں تائید نہ کرتے ہوئے واک آؤٹ کرنے والوں کے بھی چہرے بے نقاب ہوگئے ہیں جو خود کو سیکولر سیاسی پارٹی ہونے کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں جنہوں نے راجیہ سبھا سے واک آؤٹ کرتے ہوئے ایک طرح سے مرکزی حکومت کے پیش کردہ بل کی تائید کی۔ اگر حقیقت میں وہ سیکولر جماعت ہے تو اس بل کی مخالفت میں آواز اٹھانے اور بیان دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری حقیقت میں جمہوریت کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک انہیں معلومات ہیں ،
اسلام میں شریعت محمدیہ کے مطابق طلاق ثلاثہ ایک ساتھ دینا جائز نہیں ہے اور اس کی سخت مخالفت کی گئی ہے، صرف مسلمانوں کیلئے نیا قانون بناکر پریشان کرنا یہ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف مرکزی حکومت مسلمانوں کے ساتھ انصاف کی بات کرتی ہے تو دوسری جانب کرناٹک حکومت نے جنگ آزادی لڑنے اور اپنی جان کی قربانی دینے والے شیر ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقاریب کو ختم کرنے کی بات کرتی ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے جبکہ اس ملک کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والوں کی قدر کرنا اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ہمارا فرض ہے۔ انہوں نے ریاست کرناٹک کے فیصلے کی سخت مخالفت کی اور اس کو کسی طبقہ یا مذہب سے نہ جوڑنے کی بات کہی۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر بھی تنقید کی ۔ انہوں کہا کہ ریاستی حکومت قانون حق معلومات کو کالعدم کرنا چاہتی ہے جو انتہائی غلط اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخر ملک کس سمت جارہا ہے۔ اس موقع پر سابق بلدیہ چیرمین گری ناگا بھوشنم ، بنڈا شنکر اور میر کاظم علی، وائس چیرمین بلدیہ سراج الدین منصور، کونسلر خواجہ کمال الدین، منیر الدین منا، مکثر علی نہال ، ذوالفقار علی اور دیگر موجود تھے۔