ادارہ سیاست ، فیض عام ٹرسٹ اور ہیلپنگ ہینڈس کے زیر اہتمام ’ کپڑا بینک ‘ کی 6 سال کی تکمیل پر منعقدہ تقریب سے جناب ظہیر الدین علی خاں اور جناب افتخار حسین و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔26جولائی(سیاست نیوز) کسی بھی مسئلہ کے حل کے لئے اس پر محض بات چیت کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے پہل بھی کرنا پڑتا ہے اور یہی کام ادارہ سیاست نے فیض عام ٹرسٹ اورہلپنگ ہینڈس کے ساتھ ملکر کپڑا بینک کا قیام عمل میںلاتے ہوئے کیا ہے۔ اس کام کی شروعات ایک خاتون جو کینڈا میںرہتی ہیںاور کینڈا جانے سے قبل1960کے دہے میںوہ بی ایس این ایل میں 400روپئے پر ریسپشنسٹ کے خدمات انجام دیتی تھیں اور میڈیسن میںداخلے کی خواہش مند تھیں‘ گاندھی میڈیکل کالج سے میڈسن کی پڑھائی کے بعد و ہ کینڈا منتقل ہوگئیںاور وہاں پر انہوں نے ’ فی سبیل اللہ ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔اور 8سے 10کنٹینرس پر مشتمل مستعملہ ملبوسات جو قابل استعمال ہیں حیدرآباد روانہ کیاتاکہ غریب افراد میںان کپڑوں کی تقسیم عمل میںلائی جاسکے۔مستعملہ ملبوسات کے منفردمرکز ’’ کپڑا بینک‘‘کے قیام کے چھ سال کی تکمیل کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب ظہیرالدین علی خان نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ پچھلے چھ سالوں سے عابد علی خان آئی اسپتال ‘ کالی قبر کی عمارت میں مذکورہ ’’کپڑا بینک‘‘ کام کررہا ہے جہاں سے غرباء اور ضرورتوں مندوں میں مسلسل استعمال کے قابل مستعملہ ملبوسات کی تقسیم عمل میںلائی جارہی ہے ۔جناب ظہیر الدین علی خان نے اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ مغربی ممالک سے مستعملہ مصنوعات‘ میڈیکل آلات کی کسی دوسرے ممالک کو روانہ نہیں کئے جاتے ہیں اس کے باوجود بھی اروند اچاریہ نامی ہمارے ایک دوست نے 20ڈائیلاسیس مشینیں ادارے کو روانہ کئے جس میں سے 6کے قریب مشینیں مہاویر اسپتال کو عطیہ دئے گئے جبکہ دیگر مشینوں کے ذریعہ اضلاعوں میںڈائیلاسیس مراکز کاقیام عمل میںلایاگیا۔جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ ادارہ سیاست کی جانب سے کوئسچین بینک کی اشاعت کا بھی بیڑا اٹھایا ۔ انہوں نے کہاکہ ماہر تعلیمات‘ ریٹائرڈ ڈپٹی ڈی ای اوز کے خدمات حاصل کرتے ہوئے ادارہ سیاست نے دسویں جماعت کے طلباء و طالبات کے لئے کوئسچین بینک کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا۔ انہوں نے کہاکہ مقصد یہی تھا کہ مسلمانوں میںاگر دسویں جماعت میں کسی مضمون میںلڑکا فیل ہوجاتا ہے تو اس کا مستقبل وہیںپر ختم ہوجاتا ہے ‘ تعلیم ترک کرکے یاتو وہ کوئی میکانک ‘ پلمبر‘ پینٹر‘ یا کسی دوسرے شعبہ میں کمائی کی طرف راغب ہوجاتا ہے اور اگر لڑکی فیل ہوتی ہے تو گھر والے اس لڑکی کی شادی کردیتے ہیں۔ لہذا ادارہ سیاست نے 1996میںکوئسچین بینک برائے دسویں جماعت کی اشاعت کی ذمہ داری اٹھائی اور طلبہ وطالبات میںمفت اس کی تقسیم بھی عمل میںلائی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے بیس سے زائد سالوں میں دسویں جماعت کے نتائج میں نمایاں فرق آیاہے۔جناب ظہیر الدین علی خان نے ادارہ سیاست کی جانب سے امریکی تلفظ کی ادائیگی پر مشتمل کورسیس کے آغاز پر بھی روشنی ڈالی اور کہاکہ پرانے شہر بالخصوص سلم بستیوں سے 17000کے قریب لڑکے او رلڑکیوں تک ہم نے رسائی کی اور اس امریکی تلفظ پر مشتمل کورسیس میں داخلہ کرایا اور اب وہ ہائی ٹیک سٹی میںخدمات انجام دے رہے ہیں۔ جناب ظہیر الدین علی خان نے بتایا کہ حالیہ دنو ں میں عوامی تشدد کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ادارہ سیاست کی جانب سے ایسی خبروں کو اجاگرکرتے ہوئے عوام سے متاثرین کے لئے امداد کی گوہارلگائی گئی اور سیاست کے قارئین نے ایسے 11معاملات میں ایک کروڑ 40لاکھ روپئے کی مدد کی او ریہ رقم ریاست کے متاثرین کے بینک اکاونٹس میں جمع کرائی گئی ہے کیونکہ ہم نے نیوز کی اشاعت کے ساتھ ساتھ متاثرین کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات بھی شائع کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہجومی تشدد کے شکار وہی لوگ ہیں جواپنے گھر اور کنبہ کے کفیل ہیںمگر ایسے فرد کی موت سے وہ گھر معاشی پریشانیوں کا شکار ہوگیا اور گھر چلانے ‘ بچوں کی تعلیم ‘ عدالتی پیروی سے وہ قاصر ہوجاتے ہیں‘ مگر اس طرح کی امداد نے نہ صرف ایسے متاثرہ خاندانوں کے اندر حوصلہ پیدا کیا ہے بلکہ کئی ایک معاملات ایسے بھی ہیں جس میںملزمین کو سزا بھی ہوئی ہے ۔جھارکھنڈ میںہجومی تشدد کے 17واقعات پیش آئے جس میں سے 11معاملات میںسزا ہوئی ہے ۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی محترمہ چھایہ رتن نے اس تقریب سے کرتے ہوئے اتنے بڑے پیمانے پر ایک نظریہ کے تحت کپڑا بینک کے قیام پر مسرت کا اظہار کیااور کپڑا بینک کے ذمہ داران کی ستائش کی ۔ انہوں نے کہاکہ جو کام بھی ادارہ سیاست کی جانب سے کیاجاتا ہے وہ نہ صرف معیاری بلکہ عوام کی فلاح وبہبود پر مشتمل ہوتا ہے۔ مہمان خصوصی جسوین جیرات نے تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ وہ تمام لوگ جو کپڑا بینک سے وابستہ ہیںوہ سارے لوگ قابل مبارکباد ہیں۔ انہوں نے کپڑا بینک کے منتظمین کے خدمات کو قابل ستائش قراردیا ۔ سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین صاحب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کپڑا بینک کے قیام پر مشتمل تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہاکہ نہ صرف حیدرآباد بلکہ دیگر اضلاعوں اورپسماندہ علاقوں ‘ سیلاب زدہ علاقوں میںمستعملہ ملبوسات کی تقسیم کو عملی جامعہ پہنایا گیا ہے۔انہوں نے بتایاکہ اترپردیش کے مظفر نگر کے بشمول تلنگانہ کے مختلف اضلاعوں میںبھی اس کام کو ہم نے انجام دیاہے۔انہوں نے کپڑا بینک کے نظام کو بہت ہی منظم قراردیتے ہوئے کہاکہ کپڑوں کی موجودگی کی تفصیلات سے لے کر تقسیم کے عمل کی ساری تفصیلات کا اندراج عمل میںآتا ہے ۔آدھار کارڈس کی زیراکس کاپیاں ریکارڈس میں موجود ہیں۔ جہاں پر بھی کپڑوں کی تقسیم عمل میںآتی ہے ان محلہ جات علاقوں کے ذمہ داران کومدعو کیاجاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر دوسری تنظیموں کو بھی یہ کپڑے دئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے حاضرین تقریب سے مخاطب ہوکر کہاکہ اس کام کو آگے بڑھانے کے لئے آپ تمام حضرات بالخصوص وہ لوگ جو ہمارے اس کام میںبڑھ چڑھ کا حصہ لیتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ کپڑا بینک میں مستعملہ قابل استعمال ملبوسات لاکر جمع کرائیں ۔ انہوں نے کہاکہ نہ صرف ملبوسات بلکہ اگر استعمال شدہ فرنیچر‘ اور دیگر سامان بھی ہے تو ہمارے پاس لاکر جمع کرائیںتاکہ ضرورت مندوں میںاس کو قابل استعمال بناکر تقسیم کیاجاسکے۔منیجنگ ڈائرکٹر ہلپنگ ہینڈس جناب شوکت علی مرز ا نے کپڑا بینک کی چھ سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہاکہ بیرونی ممالک سے حیدرآباد آکر شادیاں کرنے والے اصحاب لاکھوں روپئے کے قیمتی دولہن کی ملبوسات تیا ر کراتے ہیںاور شادی کے بعد دوبارہ ایسے ملبوسات کا دوبارہ استعمال وہ نہیںکرسکتے ۔ انہوں نے کہاکہ ایسے لوگوں نے بھی کپڑا بینک کی مقبولیت کودیکھ کر اس طرح کے قیمتی دولہن دولہا کے ملبوسات بھی ہمیںعطیہ دینا شروع کردیا۔ایڈوکیٹ جناب غلام صمدانی اور جناب بشیر فاروقی کے علاوہ عادل آباد سے اس پروگرام میںشرکت کے لئے آنے والے کپڑا بینک کے ایک ڈونر انتخاب عالم نے بھی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کپڑا بینک او راس کے منتظمین کی بھرپور ستائش کی ۔ اس موقع پر ضرورت مندوں میںمہمانان خصوصی کی ہاتھوں سے ملبوسات کی بھی تقسیم عمل میں آئی۔