تین ماہ کی فیس حکومت ادا کرے،کانگریس اقلیتی قائدین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔11۔ جون (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریاست میں طلبہ کے سرپرستوں اور خانگی اسکولوں کے انتظامیہ کے لئے خصوصی معاشی پیاکیج کا اعلان کرے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ترجمان پردیش کانگریس سید نظام الدین اور صدر حیدرآباد سٹی کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ 30 لاکھ سے زائد طلبہ کے سرپرست اسکول فیس اور گزشتہ تعلیمی فیس کے بقایہ جات کی ادائیگی کو لے کر پریشان ہیں۔ ان کے علاوہ خانگی اسکولوں کا انتظامیہ بھی معاشی بحران کا شکار ہے۔ مارچ سے اسکولوں کو تعلیمی فیس ادا نہیں کی گئی ۔ ایک طرف لاک ڈاؤن کے سبب طلبہ کے سرپرست پریشان رہے تو دوسری خانگی اسکول انتظامیہ کو بھی معاشی تنگدستی نے آ گھیرا ۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ ریاست میں تقریباً 11,700 مسلمہ خانگی اسکولس ہیں جن میں ایک لاکھ 50 ہزار اساتذہ برسر خدمت ہیں۔ سماجی و معاشی سروے 2020 ء کے مطابق 10,369 خانگی غیر امدادی اسکولوں میں 31 لاکھ 11 ہزار 211 طلبہ ہیں۔ یہ اسکولس فیس اور ڈونیشن سے چلتے ہیں جو طلبہ سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسکولوں کو اپریل سے فیس حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ اسکولوں کے انتظامیہ کو ٹیچرس کی تنخواہوں کی ادائیگی میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ کانگریس قائدین نے بتایا کہ کئی اسکولوں نے آن لائین کلاسیس کا آغاز کردیا ، حالانکہ محکمہ تعلیم نے باقاعدہ اس کی منظوری نہیں دی ۔ آن لائین کلاسیس کے بہانے فیس کے بقایہ جات ادا کرنے سرپرستوں پر دباؤ بنایا جارہا ہے ۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ ایک طرف اسکول انتظامیہ اور دوسری طرف سرپرستوں کے مسائل اپنی جگہ درست ہیں۔ لہذا حکومت کو معاشی پیاکیج کا اعلان کرنا چاہئے ۔ تاکہ حکومت کی جانب سے اپریل ، مئی اور جون کی فیس کی ادائیگی کا انتظام ہو۔
