دہلی اور پنجاب میں اقتدار رکھنے والی عام آدمی پارٹی اب گجرات پر توجہ کرچکی ہے ۔ پارٹی کنوینر و چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے گذشتہ دنوں دو دن تک گجرات کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر ان کی گجرات پولیس کے ساتھ بحث تکرار بھی ہوئی ۔ دہلی کے چیف منسٹر کو گجرات کی پولیس نے آٹو رکشا میں سفر کرنے اور ایک آٹو رکشا ڈرائیور کے گھر پر ڈنر کرنے سے روکنے کی کوشش کی ۔ اروند کجریوال اس پر بھڑک اٹھے اور انہوں نے گجرات پولیس عملہ کو کھری کھوٹی سنائی ۔ وہ اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھاتے ہوئے آٹو رکشاء ڈرائیور کے گھر بھی گئے اور انہوں نے وہاں ڈنر بھی کیا ۔ اب کہا جا رہا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے نوجوان رکن راجیہ سبھا راگھو چڈھا کو گجرات میں پارٹی کے چہرہ کے طور پر پیش کیا جائیگا ۔ ایسا کرنا در اصل انہیں وزارت اعلی امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی بالواسطہ کوشش کے مترادف ہے ۔ ابھی کھل کر اس تعلق سے کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔ گجرات وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی آبائی ریاست ہے ۔ اس ریاست میں آئندہ سال کے اوائل میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے ریاست میں انتخابی تیاریوں کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ بی جے پی گذشتہ 25 برس سے زائد عرصہ سے ریاست میں برسر اقتدار ہے ۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے تقریبا بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کردیا تھا ۔ بی جے پی بمشکل تمام وہاں اپنااقتدار بچا پائی تھی ۔ گذشتہ پانچ برسوں میں ریاستی حکومت کی کارکردگی عوام کی توقعات کے مطابق نہیں رہی ۔ مہنگائی اور معاشی مشکلات کی وجہ سے عوام میں ناراضگی دکھائی دیتی ہے ۔ ایک طویل عرصہ تک بی جے پی کی حکمرانی کے بعد مخالف حکومت جذبات کا ابھرنا بھی عام بات ہے ۔ ایسے میں بی جے پی کیلئے مشکل صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔ کانگریس پارٹی گجرات میں بی جے پی کو ٹکر دینے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور ایسے میں اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی وہاں قسمت آزمائی کرتے ہوئے مخالف حکومت ووٹوں کی تقسیم کا ذریعہ بن سکتی ہے ۔ بی جے پی اسی وجہ سے عام آدمی پارٹی کو تشہیر بھی فراہم کر رہی ہے ۔
عام آدمی پارٹی بھی ملک کی ایک ذمہ دار سیاسی جماعت ہے ۔ اسے بھی ملک کی کسی بھی ریاست میں انتخابات میں مقابلہ کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے ۔ اس کے قائدین کو گجرات میں مہم چلانے کا بھی حق ہے ۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی ۔ عام آدمی پارٹی کے مقابلہ سے کس کو فائدہ ہوگا یا کس کو نقصان ہوگا اس سے پارٹی کو کوئی سروکار نہیں ہوسکتا ۔ تاہم ملک کی جو موجودہ صورتحال ہے اس میں اپوزیشن اتحاد وقت کی اہم ضرورت سمجھا جا رہا ہے ۔ دوسری علاقائی جماعتیں بھی اس بات کی کوشش کر رہی ہیں کہ اپوزیشن میں اتحاد ہوسکے ۔ نتیش کمار ‘ ممتابنرجی ‘ شرد پوار ‘ کے چندر شیکھر راؤ ‘ ایم کے اسٹالن ‘ اکھیلیش یادو ‘ تیجسوی یادو اور دوسرے قائدین ہیں جو اس تعلق سے وقفہ وقفہ سے اظہار خیال بھی کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ ابھی ابتدائی مرحلہ ہی کہا جاسکتا ہے تاہم ان کوششوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اپوزیشن اتحاد کے نام پر کجریوال کو انتخابات میں مقابلہ سے روکا نہیں جاسکتا تاہم خود کجریوال کو ملک کی موجودہ صورتحال اور اپنی ترجیحات پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد کو فروغ دینے کیلئے بھی آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ صرف اپنی الگ راہ کا تعین کرنا فی الحال اپوزیشن اتحاد یا قومی مفاد میں نہیں کہا جاسکتا ۔ اس سے بی جے پی کو مزید طاقتور ہونے سے روکنے میں مدد نہیں ملتی ۔ الٹا بی جے پی اس کے ذریعہ مخالف حکومت ووٹوں کی تقسیم کو یقینی بناتے ہوئے خود فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے ۔
موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اروند کجریوال بھی اپوزیشن اتحاد کی کوششوں کا حصہ بنیں۔ گجرات ہو یا کوئی اور ریاست ہو جہاں وہ مقابلہ کرنا چاہتے ہوں وہاں وہ مقامی یا دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی کوشش کریں۔ ایک ایجنڈہ کا تعین کریں کہ بی جے پی کے اقتدار کے سلسلہ کو توڑنا ہے ۔ اگر واقعی یہی مقصد ہے تو پھر صرف اپنی پارٹی کے مفاد کا تحفظ کرنے کی بجائے ملک اور عوام کی بہتری کو ترجیح دیں۔ سیاسی فائدہ کسی اور موقع پر حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ اس پہلو پر اگر غور کیا جائے اور سبھی جماعتیں اس میں اپنا رول ادا کرنے تیار ہوجائیں تو پھر اپوزیشن اتحاد اور بی جے پی کو روکنے کی کوششیں کامیاب ہوسکتی ہیں۔
