اسمبلی کی 6 ستمبر تک عدم تحلیل پر لوک سبھا کے ساتھ الیکشن کا امکان
حیدرآباد۔26 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی اگر 6ستمبر تک تحلیل نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ اسمبلی انتخابات عام انتخابات کے ساتھ ہی منعقد کئے جائیں گے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اسمبلی کی تحلیل سے قبل فلاحی اسکیمات پر مؤثر عمل آوری کے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا جا رہاہے اور تلنگانہ راشٹر سمیتی کے سیاسی مشیر و صلاح کار پرشانت کشور سے کہا گیا ہے کہ وہ اگسٹ میں اپنی قطعی رپورٹ پیش کردیں تاکہ پارٹی عاجلانہ انتخابات کے سلسلہ میں فیصلہ کرسکے۔ بتایاجاتا ہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤنے اس سلسلہ میں اپنے قریبی رفقاء سے مشاورت شروع کردی ہے اور وہ ماہ اگسٹ کے دوران ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیمات بالخصوص نئے ارشن کارڈ س کی اجرائی ‘ تقررات کے عمل کی آغاز کے ساتھ ساتھ وظائف کی اجرائی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنانے کے بعد 6ستمبر کو اسمبلی کی تحلیل کا اعلان کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جو کہ واستواور نجومیوں کی باتوں پر ایقان رکھتے ہیں ان کے لئے لکی نمبر 6 ہے اور وہ اگسٹ کے بعد 6 ستمبر کو اسمبلی کی تحلیل کا اعلان کرسکتے ہیں اور اگر وہ ستمبر میں اسمبلی تحلیل کرتے ہیں تو ایسی صورت میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے اندرون 6ماہ انتخابات کروائے جاسکتے ہیں اور وہ گجرات یا کرناٹک کے علاوہ دیگر ریاستوں کے انتخابات کے ساتھ منعقدکئے جاسکتے ہیں اور اگر وہ اپنے وقت پر انتخابات منعقدکروانے کی حکمت عملی تیار کرتے ہیں تو انہیں عام انتخابات کے ساتھ ہی انتخابات منعقد کرنے پڑسکتے ہیں اسی لئے کے سی آر کی جانب سے ستمبر کی ابتداء میں ہی اس سلسلہ میں فیصلہ کئے جانے کی توقع ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ اگر تلنگانہ اسمبلی انتخابات اپنے وقت پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو تلنگانہ اسمبلی اور عام انتخابات میں 8ماہ کا وقفہ ہوگا اور 6ماہ سے زیادہ کارگذار حکومت چلانا قانوی دشواریوں کا سبب بن سکتا ہے اسی لئے مرکزی حکومت کی جانب سے آخری دو ماہ کے دوران تلنگانہ میں صدر راج کے نفاذ کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں اور صدر راج میں انتخابات کی صورت میں ریاستی حکومت کا محکمہ جات پر کوئی کنٹرول باقی نہیں رہے گا اسی لئے تمام امور کا جائزہ لیتے ہوئے چیف منسٹر جلد اس سلسلہ میں فیصلہ کرنے کے حق میں ہیں اور اگر وہ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ نہیں کرپاتے ہیں تو ایسی صورت میں اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات ساتھ ہی منعقد ہوں گے۔م