عازمین حج کیلئے مکہ مکرمہ میں مناسب سہولتوں کی فراہمی

   

1230 عازمین حج حیدرآباد سے روانہ ہوچکے ہیں ، سعودی قوانین کی پاسداری کرنے کی تاکید

حیدرآباد۔5۔مئی ۔ (سیاست نیوز) حیدرآباد سے روانہ ہونے والے 2300 عازمین حج مکہ مکرمہ پہنچ چکے ہیں اورمنگل کو دن بھر کے علاوہ رات دیر گئے تک جملہ 1230 عازمین حج حیدرآباد سے مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوچکے ہیں۔ صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی مولانا غلام سید افضل بیابانی خسرو پاشاہ کی نگرانی میں جاری حج ہاؤز میں جاری حج کیمپ سے روانہ ہونے والے عازمین حج کو مکہ مکرمہ میں مناسب سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی جار ہی ہیں اور انہیں اس بات کی تاکید کی جا رہی ہے کہ وہ سعودی قوانین کی پاسداری کریں۔ تلنگانہ حج کمیٹی سے روانہ ہونے والے عازمین حج کے قافلوں کی روانگی سے قبل انہیں فضائل حج و مناسک کے متعلق واقف کروایا۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روانہ ہونے والے قافلوں کو مولانا حافظ پیر خلیق احمد صابر جنرل سیکریٹری جمیعۃ علمائے ہندتلنگانہ ‘ الشیخ شفیق عالم خان جامعی جمیعت اہلحدیث‘ جناب محمد اظہر الدین امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ ‘ جناب حامد محمد خان‘ مولانا حامد حسین حسان فاروقی سنی دعوت اسلامی ‘ مولانا احسن بن عبدالرحمن الحمومی خطیب و امام شاہی مسجد باغ عامہ کے علاوہ دیگر علمائے اکرام کی موجودگی میں روانہ کیاگیا۔ علمائے اکرام نے عازمین حج کے قافلوں کی روانگی سے قبل اپنے خطابات کے دوران عازمین کو مشورہ دیا کہ وہ حج بیت اللہ کی نیت کے ساتھ ہی اس بات کی بھی نیت کریں کہ حج بیت اللہ کی ادائیگی کے ساتھ وہ اپنی زندگیوں میں بھی تبدیلی لاتے ہوئے احکام الہیٰ کے مطابق زندگی گذاریں گے۔ علماء نے عازمین حج کو حج بیت اللہ کی ادائیگی کے بعد زیارت روضۂ اقدس کے دورن احترام کو ملحوظ رکھنے کی تاکید و تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسولﷺ کی زیارت کے لئے جب پہنچیں تو اس بات کو یاد رکھیں کہ ’’ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں‘‘ ۔ عازمین حج اپنے سفر حج کے دوران زیادہ تر وقت اللہ کو راضی کرنے میں گذاریں اور حج بیت اللہ کے دوران قیام منیٰ ومزدلفہ کے علاوہ جبل رحمت پر عرفہ کے دن میدان عرفات میں زیادہ سے زیادہ وقت دعاؤں میں گذاریں کیونکہ اللہ کے رسولﷺ کے عمل سے یہی بات ثابت ہے۔علمائے اکرام نے عازمین حج کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت نے اپنے گھر کی زیارت اور حج بیت اللہ کے لئے اپنے خوش نصیب بندوں کو منتخب کیا ہے اور اب ان منتخبہ بندوں کو چاہئے کہ وہ دوران سفر استغفار کریں اور مکہ سے مدینہ منورہ کے سفر کے دوران درود شریف کا ورد کرتے ہوئے شہر رسولﷺ میں داخل ہوں ۔ عازمین حج کے قافلوں کی روانگی کے موقع پر صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی مولاناغلام سید افضل بیابانی خسرو پاشاہ کے علاوہ اکزیکیٹیو آفیسر حج کمیٹی جناب محمد اسداللہ کے علاوہ دیگر عہدیداران کے علاوہ اراکین حج کمیٹی موجود تھے ۔3/y/i

پکوان کرنے پر پابندی سے عازمین حج کو کھانے کے مسائل کا سامنا
من مانی قیمتوں پر تین وقت کا کھانا خرید کر کھانے پر مجبور
حیدرآباد۔5۔مئی ۔ (سیاست نیوز) حج بیت اللہ کیلئے روانہ ہونے والے عازمین حج کو مکہ مکرمہ میں کھانے کے مسائل کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ سعودی حکومت کی وزارت حج نے پکوان پر جو پابندی عائد کی ہے اس کے نتیجہ میں عازمین حج کو مجبوری میں تین وقت کی غذائیں خرید کر استعمال کرنی پڑرہی ہیں اور موسم حج کے سبب ریستوراں میں من مانی قیمتیں وصول کی جانے لگی ہیں ۔حج بیت اللہ کے دوران دنیا بھر کے عازمین حج سعودی عرب پہنچتے ہیں اور سال گذشتہ تک بھی ہندستانی عازمین حج کو اپنے پکوان کرتے ہوئے غذاء استعمال کرنے کی رعایت حاصل ہوا کرتی تھی لیکن حج 2026 میں وزارت حج نے ہندستان کو حاصل اس رعایت کو بھی فوری اثر کے ساتھ ختم کردیا لیکن مرکزی وزارت اقلیتی امور و حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے اس کی مناسب تشہیر نہیں کی گئی اور نہ ہی عازمین حج کیلئے کسی بھی طرح کی متبادل انتظامات کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے گئے جس کے نتیجہ میں ملک بھر کے عازمین حج کو مہنگی اشیائے تغذیہ خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے۔مرکزی وزارت اقلیتی امور کی جانب سے عازمین حج کیلئے اشیائے تغذیہ کی فراہمی یا دوران حج مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی سہولتوں کے ساتھ طعام کی سہولتیں فراہم نہ کئے جانے کے سبب عازمین حج مشکل حالات کا شکار ہونے لگے ہیں کیونکہ انہیں اپنے طعام کیلئے مختلف ریستوراں میں کھانے کے انتظامات کے متعلق پریشان کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔حج کمیٹی آف انڈیا اورملک کی مختلف ریاستوں کی حج کمیٹیوں کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر عازمین حج کی اس سلسلہ میں رہنمائی کو یقینی بنانے کیلئے عازمین حج کے قافلوں کے ساتھ روانہ ہونے والے ’حج انسپکٹرس‘ کو ان کی عمارتوں کے قریب موجود ریستوراں یا اشیائے تغذیہ دستیاب ہونے کے مقامات کے متعلق واقف کرواتے ہوئے عازمین حج کی دوران سفر رہبری کویقینی بنانے کے اقدامات کریں تاکہ عازمین حج کو قیام کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ طعام کی سہولتیں بھی بہ آسانی دستیاب ہو سکیں۔3/A/b