عالمی سطح پر جمہوریت خطرے میں : بائیڈن

,

   

جمہوریت کے موضوع پر آن لائن کانفرنس میں امریکی صدر کا انتباہ

واشنگٹن : جمہوریت پر ہونے والی آن لائن کانفرنس کے آغاز پر امریکی صدر نے خبردار کیا کہ جمہوریت کو دنیا بھر میں خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو وقت کا اہم چیلنج قرار دیا۔ اس کانفرنس کے لیے چین اور روس کو دعوت نہیں دی گئی۔امریکی صدر جو بائیڈن نے 9 ڈسمبر جمعرات کے روز عالمی سطح پر جمہوری اقدار میں گراوٹ کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت بین الاقوامی رجحانات ’’بڑی حد تک غلط سمت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں‘‘۔انہوں نے ساتھی رہنماؤں سے کہا کہ اگلی دہائی میں دنیا کی سمت کا تعین کرنے کے لئے یہ ایک اہم لمحہ ہے اور جمہوری اقدار کو تقویت دینے کے لیے انہیں اپنی کوششوں کو دو گنا کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت کے موضوع پر ہونے والی دو روزہ ورچوؤل کانفرنس ’سمٹ فار ڈیموکریسی‘ کے آغاز پر جو بائیڈن نے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’جمہوریت حادثاتی طور پر نہیں پنپتی ہے بلکہ ہمیں آنے والی ہر نسل کے ساتھ اس کی تجدید کرنا ہو گی۔” انہوں نے اسے، “ہمارے وقت کا اہم چیلنج” قرار دیا۔جمہوریت سے متعلق اس کانفرنس میں دنیا کے تقریبا 110 رہنما شرکت کر رہے ہیں، تاہم اس کانفرنس پر چین اور روس سمیت ان ممالک کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے جنہیں اس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔اواخر ہفتہ چین نے خود اسی موضوع پر ’’انٹرنیشنل فورم آن ڈیموکریسی‘‘ کے نام سے ایک آن لائن اجلاس کیا۔ چین کے سرکاری میڈیا ادارے سی جی ٹی این کی اطلاعات کے مطابق اس ورچوؤل اجلاس میں 120 ممالک کے اسکالرز اور رہنماؤں نے شرکت کی۔چینی کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے دوسرے ممالک کو مغربی جمہوری ماڈل کی نقل کرنے پر مجبور کرنے کی کوششیںمکمل طور پر ناکام ثابت ہوں گی۔جرمن مارشل فنڈ میں ‘الائنس فار سکیورنگ ڈیموکریسی’ کی ڈائریکٹر اور سینیئر فیلو لورا تھورنٹن نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا کہ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے لیے ایسے سربراہی اجلاس کی بڑی اہمیت ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ آمروں کے اپنے سربراہی اجلاس ہوتے ہیں۔ وہ نگرانی والی ٹیکنالوجی اور جبر کے دیگر طریقوں سے حاصل ہونے والی معلومات سے جو اسباق سیکھتے ہیں، اس پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ اس لیے ہمارے سامنے حقیقتاً ایک اہم کام یہ ہے کہ ہم اپنی جمہوریتوں کا دفاع کریں۔جرمنی کے نئے چانسلر اولاف شولز نے بھی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ عالمی سطح پر جمہوری قدروں کا خطرہ لاحق ہے۔اولاف شولز کا کہنا تھا بڑھتی ہوئی قوم پرستی اور دائیں بازو کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ غلط معلومات پھیلانے کی جاری مہم اور نفرت انگیز تقاریر کے تناظر میں، ہمیں اپنے جمہوری اداروں کو اندرونی اور بیرونی سطح پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔