مریض سے رابطہ پر دیگر کو بھی مرض لاحق ، ڈیسیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی رپورٹ
حیدرآباد۔18۔اگسٹ(سیاست نیوز) عالمی سطح پر تیزی سے پھیل رہی بیماری ’منکی پاکس‘ مریض سے رابطہ میں آنے والے افراد کے ذریعہ بھی پھیل سکتی ہے ۔ امریکی ادارہ کی جانب سے کی گئی تحقیق کے بعد منظر عام پر لائی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی طرح منکی پاکس فضاء کے ذریعہ نہیں پھیل سکتی لیکن مریض سے مسلسل رابطہ میں رہنے والے شخص کے جسم پر موجود جراثیم اگر دوسروں کو منتقل ہوتے ہیں تو ایسی صور ت میں مریض سے رابطہ میں رہنے والا فرد منکی پاکس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ سنٹر فار ڈیسیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منکی پاکس کے پھیلاؤ کے لئے ضروری نہیں کہ متاثرہ شخص کے ساتھ جنسی اختلاط ہو بلکہ اگر متاثرہ شخص سے قربت اختیار کی جائے تو ایسی صورت میں بھی کوئی منکی پاکس کا شکار ہوسکتا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ رپورٹ میں ماہرین نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص منکی پاکس کے متاثرین کے ہمراہ طویل وقت گذارتا ہے اور اس دوران احتیاط نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں انہیں منکی پاکس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اسٹانفرڈ یونیورسٹی اور سی ڈی سی کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں اس بات کو ثابت کرنے لئے حالیہ عرصہ میں برطانیہ کا سفر کرنے والے امریکی شہری کی واپسی کے بعد اسے منکی پاکس کی توثیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذکورہ شخص نے حالیہ عرصہ میں کسی کے ساتھ جنسی اختلاط نہیں کیا لیکن اسے منکی پاکس کی علامات پائے جانے کے بعد کی گئی تحقیق میں یہ ثابت ہوا ہے کہ مذکورہ شخص منکی پاکس کا شکار ہوچکا ہے ۔ محققین کا کہناہے کہ مذکورہ شخص کے معائنوں سے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ وہ منکی پاکس سے متاثرہ شخص سے قربت رکھنے والے شخص سے ملاقات کے سبب اس شخص کو منکی پاکس کے مرض نے گھیراہے۔منکی پاکس کا شکار افراد سے قریب رہنے والوں کو منکی پاکس نہ ہونے کے باوجود قریب رہنے والے افراد کو منکی پاکس کی بیماری لاحق ہونے کی وجوہات کے سلسلہ میں ماہرین نے بتایا کہ جو لوگ مریض کی خدمت یا اس سے ملاقات کے لئے قریب جا رہے ہیں وہ احتیاطی اقدامات کے ساتھ جاتے ہیں لیکن واپسی کے بعد وہ جن لوگوں سے ملاقات کررہے ہیںوہ سادہ حالت میں کررہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے جس یا کپڑوں پر موجودجراثیم دوسروں میں منتقل ہونے کے سبب وہ لوگ شکار ہورہے ہیں۔م