عاملین زکوۃ پر محکمہ پولیس اور انٹلی جنس کی خصوصی نظر

   

دیگر ریاستوں سے آمد و رہائش اور دیگر تفصیلات کا حصول، گداگروں کا بھی جائزہ

حیدرآباد۔26۔مارچ(سیاست نیوز) ملک میں دینی مدارس کے لئے چندہ وصول کرنا اور ماہ رمضان المبارک کے دوران دینی مدارس کے لئے چندہ جمع کرنے کے لئے نکلنا بھی مشکل ہوتا جا رہاہے اور ملک کی مختلف ریاستوں بالخصوص جنوبی ہند کی ریاستوں میں محکمہ پولیس اور انٹلیجنس کی جانب سے عاملین زکواۃ پر خصوصی نظر رکھی جانے لگی ہے۔شہر حیدرآباد میں ملک کی مختلف ریاستوں بالخصوص جموں و کشمیر کے علاوہ بہار‘ اوڈیشہ ‘ اترپردیش‘ مغربی بنگال کے علاوہ دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے عاملین زکواۃ ماہ رمضان المبارک کے دوران زکواۃ کی وصولی کے لئے پہنچتے ہیں لیکن اس مرتبہ بھی ان کی آمد و رہائش کے علاوہ ان کی دیگر تفصیلات بھی وصول کی جانے لگی ہیں۔ذرائع کے مطابق ریاست بہار و اترپردیش کے مدارس کے ذمہ داروں کی جانب سے مساجد میں مدارس کے طلبہ کے ساتھ چندہ وصول کرنے کے واقعات اور اطلاعات کی بنیاد پر ان کے متعلق معلومات اکٹھا کی جا رہی ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ محکمہ پولیس کے شعبہ انٹلیجنس کے عہدیداروں نے اپنے ماتحتین کو چندہ کی وصولی کرنے والوں کے علاوہ ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے گداگروں کی شہر میں موجودگی کے متعلق معلومات اکٹھا کرنے کی ہدایت دے چکے ہیں۔محکمہ پولیس کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہاہے کہ جو بیرون ریاست دینی مدارس کے سفراء ماہ رمضان المبارک کے دوران شہر کا رخ کر رہے ہیں آیا وہ حقیقی مدارس سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں ؟ پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بعض لوگ عاملین زکواۃ کی طرح گھوم پھر کر زکواۃ جمع کر رہے ہیں لیکن ان کے متعلق شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ وہ مدارس کا حصہ نہیں ہیں بلکہ عوام کو گمراہ کر رہے ہیںاسی لئے ایسے افراد پر خصوصی نظر رکھتے ہوئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مساجد کے باہر یا مساجد کے صحن میں معصوم بچو ںسے چادر پکڑواکر ٹھہرانے والوں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی کیونکہ معصوم بچوں سے اس طرح کی خدمات حاصل کی جانا اچھی بات نہیں ہے بلکہ قانونی اعتبار سے بچوں کو چندہ وصولی کے اس عمل میں اس طرح شامل کیا جانا انہیں بھیک مانگنے پر اکسانے کے مترادف ہے۔ شہر حیدرآباد میں عاملین زکواۃ کو مخصوص اداروں کی جانب سے سند جاری کی جاتی ہے اور ان ادارو ںکی جانب سے دی جانے والی سند کے بعد ہی وہ زکواۃ کی وصولی کے اہل ہوتے ہیں اور زکواۃ کی وصولی کے لئے جن اداروں اور تنظیموں کی جانب سے توثیق کی جاتی ہے ان میں جمیعۃ العلماء ہند‘ جمیعت اہل حدیث کے علاوہ دیگر مذہبی تنظیمیں شامل ہیں جو سفراء کو توثیق کے مکتوب حوالہ کرتے ہیں۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں مخیر و متمول شہریوں کی جانب سے زکواۃ و صدقات کے علاوہ عطیات کیلئے ملک کی مختلف ریاستوں سے پہنچنے والے ذمہ داران مدرسہ کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد میں کبھی اس طرح کے حالات کا انہیں سامنا نہیں کرنا پڑا تھا لیکن گذشتہ چند برسوں کے دوران جو حالات پیدا ہوئے ہیں ان حالات کے دوران بعض دھوکہ بازوں کی وجہ سے انہیں ان مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ریاست تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں ملک کے سرکردہ مدارس میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ بطور عامل زکواۃ پہنچتے ہیںاسی لئے کسی کو بھی مشتبہ تصور کرنے سے قبل ان کی تحقیق کرلینی چاہئے کیونکہ دینی مدارس میں خدمات انجام دینے والے یہ اساتذہ ملت اسلامیہ میں دین کی بقاء کا اثاثہ ثابت ہورہے ہیں۔ م