عجیب شخص ہے، ہمدردیاں لٹاتا ہے
پرانی آگ کے دریا میں کود جاتا ہے
عام آدمی پارٹی نے پنجاب سے اپنے پانچ راجیہ سبھا امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے جن کا انتخاب بھی تقریبا یقینی کہا جا سکتا ہے ۔ عام آدمی پارٹی ویسے تو شفاف سیاست کیلئے جانی جاتی ہے اور اس کے امیدواروں کے خلاف کوئی مجرمانہ مقدمات نہ ہونے کے دعوے بھی کئے جاتے ہیں۔ انتخابات میں بھی وہ عوامی خدمات کے ریکارڈ کو پیش کرتی ہے اور اب تک پارٹی اور اس کے قائدین کی امیج پاک صاف رہی ہے ۔ کرپشن کے الزامات ابھی تک کوئی سامنے نہیں آئے ہیں۔ مرکزی حکومت کی ایماء پر کئی قائدین کے خلاف مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں نے دھاوے بھی کئے لیکن کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جاسکا اور نہ کسی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے ۔ ہندوستان کی سیاست میں تبدیلی لانے کا دعوی کرنے والی عام آدمی پارٹی نے پنجاب اسمبلی انتخابات کیلئے بھی جو امیدوار میدان میں اتارے تھے ان کا امیج صاف اور شفاف تھا ۔ کئی امیدوار عام صفوں سے اٹھ کر انتخابی میدان میں آئے تھے اور پاک صاف امیج کے حامل تھے ۔ اب پنجاب سے راجیہ سبھا کیلئے بھی پانچ امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا گیا اور انہوں نے بھی اپنے پرچے داخل کردئے ہیں۔ ان میں سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ ‘ دہلی کے رکن اسمبلی راگھو چڈھا ‘ آئی آئی ٹی کے پروفیسر سندیپ پاٹھک ‘ خانگی یونیورسٹی قائم کرنے والے اشوک کمار متل اور ایک تاجر شامل ہیں جو کینسر متاثرین کی امداد کیلئے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے انتہائی شفاف امیج کے حامل اور قابل امیدواروں کو میدان میں اتارتے ہوئے نہ صرف اپنا ریکارڈ برقرار رکھا ہے بلکہ دوسروں کیلئے ایک مثال بھی پیش کی ہے ۔ پارٹی یہ تاثر دینے میں کامیاب رہی ہے کہ راجیہ سبھا امیدواروں کا انتخاب شخصیت کی بنیاد پر ہوا ہے ۔ صلاحیت کی بنیاد پر ہوا ہے ۔ صاف و شفاف امیج کی بنیاد پر ہوا ہے ۔ پیسے کی طاقت کا اس میں کوئی رول نہیں ہے اور نہ ہی کسی سیاسی لیڈر کے مجرمانہ پس منظر اور اس کی طاقت کے بل پر راجیہ سبھا کیلئے منتخب کیا گیا ہے ۔ اکثر و بیشتر دیکھا جاتا ہے کہ دوسری جماعتوں میں راجیہ سبھا ٹکٹ فروخت کئے جاتے ہیں۔
حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی اب تک کی جو روش رہی ہے اس کے مطابق یہی کہا جاسکتا ہے کہ ایک سے زائد مواقع پر راجیہ سبھا کے ٹکٹ فروخت کئے گئے ۔ کسی کی مجرمانہ طاقت کے بل پر راجیہ سبھا بھیجا گیا تو کسی کو سیاسی توڑ جوڑ میں مہارت کی وجہ یہ موقع ملا تھا ۔ عام آدمی پارٹی نے ایک مثال قائم کرتے ہوئے شفاف کردار کے حامل افراد کو یہ موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پارٹی کے قائدین اب تک اقتدار کے گلیاروں کی فرسودہ روایات سے خود کو بچائے رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ان کے کردار کا انعام بھی ملا ہے ۔ پنجاب میں جہاں پارٹی نے کسی بڑے عوامی چہرے کے بغیر انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ عوام کو بھی بڑے اور معروف چہروں سے زیادہ کام کرنے والے اور ایماندار و دیانتدار افراد سے امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ان کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنانے کیلئے کام کریں گے ۔ ذاتی مفاد پر عوام کی سہولیات کو ترجیح دینگے اور ان کے مسائل کی یکسوئی کیلئے کوشش کریں گے ۔ پنجاب میں چیف منسٹر بھگونت مان نے جو کابینہ تشکیل دی ہے اس میں شامل وزراء کیلئے بھی نشانہ مقرر کردئے گئے ہیں۔ انہیں پہلے ہی سے خبردار کردیا گیا ہے کہ وہ عوام کے کاموں میں مصروف رہیں ۔ عوامی خدمات سے غفلت برتنے پر انہیں وزارت سے محروم کردیا جائیگا ۔ یہ طریقہ کار کسی اور جماعت نے کسی اورر یاست میں اختیار نہیں کیا تھا ۔ وزراء خود کو عوام کے آقا سمجھ بیٹھے ہیں جبکہ وہ عوام کے خادم ہوتے ہیں۔
ملک کی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے میں عام آدمی پارٹی سے سبق لینے کی ضرورت ہے کہ کس طرح سے عوامی خدمات کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ اقتدار ملنے کے بعد بھی کرپشن اور بدعنوانیوں سے خود کو دور رکھا جاسکتا ہے ۔ عوامی اور سماجی خدمات کا ریکارڈ رکھنے والوں کو ملک کی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کیلئے بھی منتخب کیا جاسکتا ہے ۔ صرف پیسے اور دولت کے بل پر سیاست ہمیشہ کامیاب نہیںہوسکتی ۔ بی جے پی ‘ کانگریس اور جتنی بھی علاقائی سیاسی جماعتیں ہیں انہیں خود کو عوامی توقعات کے سانچے میں ڈھالنے کیلئے تیار ہوجانا چاہئے کیونکہ عوام کو زیادہ عرصہ تک بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔
