عتیق کی طرح مجھے بھی گولی ماری جاسکتی ہے ۔ اعظم خان

   

لکھنو : سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر و سابق رکن اسمبلی اعظم خان نے آج ایک سنسنی خیز بیان میںیہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ عتیق احمد کی طرح انہیں بھی کہیں بھی گولی ماری جاسکتی ہے ۔ طویل عرصے کے بعد اعظم خان نے خرابی صحت کے باوجود آج اترپردیش میں میونسپل انتخابات کی مہم میں حصہ لیا۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی امیدوار فاطمہ ذبیحکی مہم چلائی، جو رام پور بلدیہ صدر کیلئے انتخاب لڑ رہی ہیں۔ اس موقع پر اعظم خان نے کہا کہ انہیں اپنی جان کا خوف ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں بھی گینگسٹر و سیاستدان عتیق احمد کی طرح گولی مار دی جائے گی۔ آپ مجھ سے اور ہمارے بچوں سے کیا چاہتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ کوئی آئے اور ہمارے سر میں گولی مار دے؟ انہوں نے کہا کہ نظام ہند کو بچاو اور قانون کو بچاو۔ ہم ووٹ دیں گے۔ یہ ہمارا پیدائشی حق ہے لیکن وہ ہم سے چھین لیا گیا ہے۔ اگر اسے تیسری بار چھین لیا جاتا ہے تو شاید ہمیں سانس لینے کا حق بھی نہیں رہیگا۔ انہوں نے اسمبلی سے نااہل قرار دینے کے معاملے کا بھی ذکر کیا۔ اس سے قبل اعظم خان رام پور صدر حلقہ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔ اپریل 2019 میں رام پور انتخابی مہم میں وزیر اعظم مودی اور چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کے خلاف الزامات لگانے پر اعظم خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا اور عدالت نے انھیں سزا سنائی جس کے بعد ان کی اسمبلی کی رکنیت ختم کردی گئی۔