تھوڑا میٹھا تھوڑا نمکین ، نرم ذائقہ دار بسکٹ حضور نظام میر عثمان علی خاں کے حکم پر تیار ہوا تھا
محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 17 ۔ نومبر عثمانیہ بسکٹ دنیا کا پہلا بسکٹ ہے جس کو شاہی سرپرستی حاصل رہی ہے ۔ یہ ذائقہ دار بسکٹ پسندیدہ اسناک میں شمار کیا جاتا ہے ۔ سماجی جہدکار و مورخ کیپٹن پانڈو رنگاریڈی نے عثمانیہ بسکٹ کی شروعات کے بارے میں بتایا کہ ملک کے تاریخی عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کا ایک دن حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے دورہ کیا ۔ اس وقت دن کے 4 بجے تھے۔ انہوں نے دواخانہ میں زیر علاج مریضوں اور ان کے ساتھ رہنے والوں سے دریافت کیا تھا کہ کیا انہیں وقت پر کھانا دیا جاتا ہے ۔ جس پر مریضوں نے انہیں بتایا تھا کہ صبح میں دودھ اور ناشتہ دیا گیا دوپہر میں لنچ بھی دیا گیا ۔ حضور نظام نے 4 بجے اسناکس کے طور پر مریضوں کو بسکٹ دینے کی عثمانیہ ہاسپٹل کے انتظامیہ کو ہدایت دی ۔ اس وقت ماہرین پکوان نے پرہیزی غذا کے طور پر ایسا بسکٹ تیار کیا جو تھوڑا میٹھا اور تھوڑا نمکین کے ساتھ نرم بھی ہو حضور نظام کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ماہرین پکوان نے مسکہ ، شکر ، کسٹرڈ پاوڈر ، سوڈا ، الائچی پاوڈر ، زعفرانی دودھ اور میدہ استعمال کرتے ہوئے ایک انتہائی نرم ذائقہ دار بسکٹ تیار کیا گیا اور اس کا نام عثمانیہ بسکٹ رکھا گیا ۔ اس بسکٹ کو جب حضور نظام کی خدمات میں پیش کیا گیا تو انہوں نے بھی اس کو خوب پسند کیا بلکہ اس کو اپنے اسناکس میں شامل رکھنے کا حکم دیا ۔ اس معاملے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ عثمانیہ بسکٹ دنیا کا پہلا بسکٹ ہے جس کی سرپرستی کسی شاہی حکومت نے کی ہے ۔ جس طرح حیدرآبادی بریانی ، حلیم ، بگھارے بیگن ، چاہئے اور قوبانی کا میٹھا ساری دنیا میں ذائقہ و لذت کے لیے شہرت رکھتے ہیں اس طرح عثمانیہ بسکٹ کو بھی عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی ہے ۔۔ ن