کانگریس حکومت منشور میں شامل وعدہ کو نبھائے ، جدوجہد کرنے والی تنظیموں کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔14فروری(سیاست نیوز) دواخانہ عثمانیہ کی تاریخی عمارت کے تحفظ کا کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی تاریخی عمارت کے تحفظ کے ساتھ دواخانہ کی ترقی کے اقدامات کو یقینی بنائے۔ عثمانیہ ہاسپٹل کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کے ذمہ داروں نے آج پریس کانفرنس کے دوران تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہر حیدرآباد کے تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے اقدامات کرتے ہوئے عوام سے کئے گئے وعدہ کو پورا کیا جائے اور دواخانہ عثمانیہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے اس کے تحفظ اور آہک پاشی کے اقدامات کئے جائیں۔ جناب سجاد شاہد‘ ڈاکٹر اقبال جاوید‘ محترمہ انورادھا ریڈی ‘ محترمہ جسوین جئے رتھ‘ محترمہ سارہ میتھیوزڈاکٹر آصف حنیف کے علاوہ دیگر نے اپنے قدیم مطالبات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے دواخانہ عثمانیہ کو منہدم کرنے کی کوششیں 2015 سے کی جا رہی ہیں اور ان کوششوں کے خلاف تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والے جہدکارمسلسل نمائندگی اور احتجاج کرتے آئے ہیں۔ جہدکاروں کے اس وفد نے چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی سے وقت طلب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والوں سے ملاقات کرتے ہیں تو وہ انہیں تاریخی عمارت کو نقصان پہنچائے بغیرعثمانیہ دواخانہ کی ترقی کے سلسلہ میں تیار کردہ منصوبہ کو پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ڈاکٹر اقبال جاوید نے بتایا کہ دواخانہ عثمانیہ کی شعبہ طب میں اپنی تاریخ ہونے کے علاوہ اس دواخانہ کے استفادہ کنندگان میں لاکھوں افراد موجود ہیں جن میں ڈاکٹرس کے علاوہ مریض بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس تاریخی دواخانہ کے تحفظ کے سلسلہ میں کانگریس نے اقتدار حاصل کرنے سے قبل اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیاتھا اور کہا تھا کہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد حکومت دواخانہ عثمانیہ کی تاریخی عمارت کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کرے گی۔ محترمہ سارہ میتھیوز نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اگر اس عمارت کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں جہدکاروں کی جانب سے احتجاج کے آغاز سے بھی گریز نہیں کیاجا ئے گا۔ انہو ںنے بتایا کہ شہر کے تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے سلسلہ میں کئے گئے وعدہ پر عمل آوری ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر آصف حنیف نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اس تاریخی عمارت کے انہدام کے منصوبہ کے خلاف جاری جدوجہد کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاستی حکومت کو دواخانہ کی ترقی سے زیادہ دواخانہ کے اطراف موجود کئی ایکڑ اراضی سے دلچسپی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رئیل اسٹیٹ تاجرین کے مفادات کے تحفظ کے لئے شہر کے تہذیبی ورثہ کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ محترمہ جسوین جئے رتھ نے دواخانہ عثمانیہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کے سلسلہ میں اقدامات نہ کرتے ہوئے اس عمارت کو لاوارث چھوڑ دیئے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی عمارت کو نظرانداز کرتے ہوئے اگر اس کی دیکھ بحال کے اقدامات نہ کئے جائیں تو ایسی صورت میں عمارت مخدوش ہوجاتی ہے اور گذشتہ 10 برسوں کے دوران دواخانہ عثمانیہ کی عمارت کو مخدوش بنانے کی سازش کی گئی ہے۔ محترمہ انورادھا ریڈی انٹیاک حیدرآباد چیاپٹر نے بتایا کہ دواخانہ عثمانیہ کی عمارت کی جانچ کے بعد ایک رپورٹ تیار کی جاچکی ہے اور اسے موجودہ حکومت کو پیش کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیف منسٹر اے ریونت ریڈی ان جہد کاروں کو وقت فراہم کرتے ہیں تو وہ دواخانہ عثمانیہ کی حقیقی صورتحال پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ اس عمارت کی آہک پاشی اور تزئین نو کے ذریعہ اسے مزید کئی برسوں تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔3