عثمانیہ و گاندھی میڈیکل کالجس میں آندھرائی طلبہ کو داخلے

   

Ferty9 Clinic


100 سے زائد تلنگانہ طلبہ سے ناانصافی، چیف منسٹر کو کانگریس پارٹی کا مکتوب
حیدرآباد: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان ڈاکٹر ڈی شراون نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ریاست میں میڈیکل نشستوں میں تلنگانہ کے طلبہ کے ساتھ ناانصافیوں کی شکایات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی نشستیں آندھرائی طلبہ کو الاٹ کی گئیں جس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے غیر محفوظ نشستوں کے آندھرائی طلبہ کو الاٹ کرنے کی نشاندہی کی اور داخلوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ شراون نے کہا کہ تلنگانہ عوام کے ساتھ ناانصافی کے نتیجہ میں علحدہ ریاست کی تحریک شروع ہوئی تھی لیکن تلنگانہ ریاست کے قیام کے باوجود آندھرائی طلبہ کو داخلوں میں ترجیح دیتے ہوئے تلنگانہ کے طلبہ سے ناانصافی کی جارہی ہے ۔ کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلت سائنسیس نے غیر محفوظ زمرہ کے تحت مشتبہ طور پر نشستیں آندھرائی طلبہ کو الاٹ کردیں۔ انہوں نے کہا کہ عثمانیہ اور گاندھی میڈیکل کالجس میں آندھرائی طلبہ کو نشستوں کی فراہمی باعث حیرت ہے جبکہ تلنگانہ کے سینکڑوں طلبہ اہلیت کے باوجود نشست سے محروم رہے۔ شراون نے کہا کہ 100 سے زائد میرٹ طلبہ سے ناانصافی کی گئی اور آندھرائی طلبہ کو ان کالجس میں نشستیں الاٹ کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر محفوظ نشستوں پر میرٹ سے نشستیں الاٹ کی جانی چاہئے لیکن وائس چانسلر نے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاندھی میڈیکل کالج میں نشستوں کے الاٹمنٹ کے بعد 8 طلبہ نے دوسرے کالجس کا انتخاب کیا ۔ ان کی جگہ تلنگانہ کے طلبہ کے ایڈمیشن کے بجائے وائس چانسلر نے آندھرائی طلبہ کو داخلہ دیا۔ انہوں نے تمام غیر قانونی داخلوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ۔