عثمانیہ ہاسپٹل کی نئی تعمیر کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست

   

چیف منسٹر کا نام درخواست سے حذف کرنے جسٹس وجئے سین ریڈی کی ہدایت
حیدرآباد۔/29 جنوری، ( سیاست نیوز) عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی نئی عمارت کی تعمیر کیلئے گوشہ محل پولیس اسٹیڈیم کے انتخاب کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے ایک شہری آنند گوڑ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو سماعت کیلئے قبول کیا۔ درخواست گذار نے دعویٰ کیا کہ پولیس اسٹیڈیم میں ہاسپٹل کی تعمیر سے اطراف کے رہنے والے مکینوں کی زندگی پر اثر پڑے گا۔ جسٹس وجئے سین ریڈی نے درخواست گذار سے کہا کہ ہاسپٹل کہاں تعمیر کیا جائے یہ خالص انتظامی اور پالیسی فیصلہ ہے اور حکومت بنیادی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ کرتی ہے۔ جسٹس وجئے سین ریڈی نے سرکاری وکیل کو ہدایت دی کہ وہ حقائق اور تفصیلات سے عدالت کو واقف کرائیں۔ عدالت نے کہا کہ تعمیر سے متعلق فیصلہ اور اسٹیڈیم کے موجودہ اسٹرکچر کے استعمال سے متعلق تفصیلات پیش کی جائیں۔ ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کو عصری سہولتوں کے ساتھ بہتر مقام پر تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے درخواست گذار کی جانب سے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو مقدمہ میں فریق بنانے پر اعتراض کیا۔ جسٹس ریڈی نے ایڈوکیٹ جنرل کے موقف کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کو فریق بنانا غیر ضروری ہے۔ انہوں نے درخواست گذار کو ہدایت دی کہ پٹیشن میں ترمیم کرتے ہوئے چیف منسٹر کے نام کو حذف کریں۔ واضح رہے کہ گذشتہ چند برسوں سے عثمانیہ ہاسپٹل کی موجودہ عمارت کو منہدم کرتے ہوئے نئی عمارت کی تعمیر کا مسئلہ زیر غور تھا تاہم ہیریٹیج عمارت کے تحفظ کیلئے جہد کار عدالت سے رجوع ہوئے اور یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے۔ کانگریس حکومت نے گوشہ محل پولیس اسٹیڈیم میں عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی تعمیر کا فیصلہ کیا جس کی مقامی افراد کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے۔ جسٹس وجئے سین ریڈی نے مقدمہ کی آئندہ سماعت 18 فروری کو مقرر کی ہے۔1