عثمانیہ یونیورسٹی اگزیکیٹیو کونسل میں مسلم نمائندگی نظر انداز

   

ایجوکیشن کمیشن اور اڈوائزری کمیٹی اقلیتوں کے بغیر، موثر نمائندگی کے دعوے کھوکھلے
حیدرآباد ۔4 ۔ مئی (سیاست نیوز) کانگریس حکومت کی جانب سے اقلیتوں کو ہر شعبہ میں موثر نمائندگی کا دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن کئی اہم اداروں کی تشکیل میں مسلم اقلیت کی نمائندگی کو فراموش کردیا گیا۔ اسمبلی انتخابات میں اقلیتوں کی تائید سے کانگریس نے تلنگانہ میں اقتدار حاصل کیا جس کا اعتراف خود پارٹی قیادت کو ہے لیکن گزشتہ ڈھائی برسوں میں اہم سرکاری اداروں میں نمائندگی نہیں دی گئی۔ ریاست میں اقلیتوں کی سماجی ، معاشی اور تعلیمی پسماندگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور تعلیم کے شعبہ میں ترقی کیلئے ضروری ہے کہ اہم اداروں میں اقلیت کو نمائندگی دی جائے۔ حکومت نے ریاست کی بعض سرکاری یونیورسٹیز کی اگزیکیٹیو کونسلس کی تشکیل کا اعلان کیا ہے جس میں سوائے تلنگانہ یونیورسٹی کے دیگر یونیورسٹیز میں مسلم اقلیت کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حیدرآباد میں موجود ریاست کی سب سے قدیم عثمانیہ یونیورسٹی کی اگزیکیٹیو کونسل بھی مسلم اقلیت کی نمائندگی کے بغیر ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے بانی آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں ہیں اور یہ اردو میڈیم ذریعہ تعلیم کی پہلی یونیورسٹی ہے لیکن کانگریس حکومت نے اگزیکیٹیو کونسل میں کسی مسلم نمائندہ کو شامل نہیں کیا ہے ۔ 14 رکنی اگزیکیٹیو کونسل میں مسلم اقلیت کی عدم نمائندگی پر تعلیمی حلقوں میں بے چینی دیکھی جارہی ہے۔ شائد یہ پہلا موقع ہے جب اگزیکیٹیو کونسل مسلم نمائندگی کے بغیر تشکیل دی گئی۔ اگزیکیٹیو کونسل ک تشکیل کے سرکاری احکامات کو بھی برسر عام نہیں کیا گیا۔ گزشتہ اگزیکیٹیو کونسل میں دو مسلم نمائندے موجود تھے لیکن کانگریس حکومت کی پہلی اگزیکیٹیو کونسل مسلم نمائندگی کے بغیر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے تعلیمی اصلاحات کے لئے تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن تشکیل دیا جس میں تین ارکان شامل کئے گئے لیکن ایک بھی مسلم رکن نہیں ہے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن کے تحت 6 رکنی اڈوائزری کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن اس میں بھی مسلم اقلیت کی نمائندگی کو نظرانداز کردیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے کئی ماہرین تعلیم بشمول سابق وائس چانسلرس کی موجودگی کے باوجود حکومت نے ان کی خدمات حاصل کرنے کی زحمت نہیں کی۔ کیا مسلم اقلیت میں ایک بھی ایسا نمائندہ موجود نہیں جسے ایجوکیشن کمیشن میں شامل کیا جاسکے۔ کمیشن نہ سہی اڈوائزری کمیٹی میں کم از کم نمائندگی دی جانی چاہئے تھی۔ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے موثر اور بہتر تجاویز مسلم اقلیت کے ماہرین تعلیم پیش کرسکتے ہیں۔ سوائے چند ایک اقلیتی اداروں کو چھوڑ کر اہم سرکاری اداروں میں مسلم اقلیت کی نمائندگی صفر ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوپائے گی کیونکہ کمیٹیوں میں ان کی نمائندگی نہیں ہے۔1/k