عثمانیہ یونیورسٹی میں 3 اور 4 جنوری کو سابق طلبہ کا اجلاس

   


2000 مندوبین کی شرکت متوقع، وائس چانسلر ڈی رویندر کا اعلان
حیدرآباد ۔30 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام 3 اور 4 جنوری کو یونیورسٹی کے سابق طلبہ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں دنیا بھر سے تقریباً 2000 سابق طلبہ کی شرکت کا امکان ہے ۔ وائس چانسلر ڈی رویندر نے کہا کہ ملک کی تمام اہم یونیورسٹیز کو سابق طلبہ کا تعاون حاصل ہوتا ہے تاکہ مختلف شعبہ جات کی ترقی کو یقینی بنایا جائے۔ عثمانیہ یونیورسٹی بھی دنیا بھر میں موجود سابق طلبہ سے تعاون حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ اسی نظریہ کے تحت سابق طلبہ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے سابق طلبہ دنیا میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ عرصہ تک بھی سابق طلبہ کی تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے چند نامور سابق طلبہ نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر اڈوب ایس نارائن ، پولیس کمشنر حیدرآباد سی وی آنند اور کرکٹ کامینٹیٹر ہرشا بھوگلے شامل ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی نے 24 سابق طلبہ کو شرکت کی دعوت دی ہے اور انہوں نے اپنی شرکت کے بارے میں اطلاع نہیں دی۔ اجلاس میں شرکت کیلئے سب سے سینئر سابق طالب علم 88 سالہ بابو راؤ ہیں ، جو یونیورسٹی سے پروفیسر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ جنوری کے پہلے ہفتہ میں عالمی سطح کا سابق طلبہ کا اجلاس اہمیت کا حامل ہے اور زیادہ تر طلبہ کا تعلق ہندوستان کے مختلف شہروں سے ہیں۔ اجلاس میں اسکالرشپ کا اعلان ، انڈومنٹ لکچرس اور کتابوں کی رسم اجراء شامل رہے گی۔ اس موقع پر 5 امیدواروں کو وائس چانسلر ایوارڈس پیش کئے جائیں گے۔ یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبرس ، نان ٹیچنگ اسٹاف اور سابق طلبہ کو یونیورسٹی اپنا اثاثہ تصورت کرتی ہے۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے سابق طلبہ کو ان کے متعلقہ ڈپارٹمنٹس کے دورہ کی اجازت رہے گی اور 4 جنوری کو وہ اپنے ڈپارٹمنٹ کے طلبہ اور فیکلٹی سے ملاقات کریں گے ۔ر