عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضیات کے مسئلہ پر گورنر سے ملاقات

   

وینکٹ ریڈی اور کودنڈارام نے اراضیات کا دوبارہ سروے اور بائونڈری وال کا مطالبہ کیا
حیدرآباد۔ 5 جون (سیاست نیوز) سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی، تلنگانہ جناسمیتی کے صدر پروفیسر کودنڈارام اور عثمانیہ یونیورسٹی کے پروفیسر رمیش ریڈی نے آج گورنر ٹی سوندرا راجن سے ملاقات کرتے ہوئے عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں یادداشت پیش کی۔ انہوں نے گورنر کو واقف کرایا کہ یونیورسٹی کی اراضیات پر ناجائز قبضوں کا سلسلہ جاری ہے اور اسے حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف سابع نواب میر عثمان علی خان 17 اگست 1917ء کو یونیورسٹی کے قیام کے لیے فرمان جاری کیا تھا جس کے تحت 1628 ایکر اراضی الاٹ کی گئی۔ یونیورسٹی کی اراضی سے متصل ایک جھیل موجود تھی جسے خوبصورت بناتے ہوئے تفریحی مرکز قائم کیا جاسکتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ جھیل قبضوں کا شکار ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کے لیے کوئی بائونڈری وال نہیں ہے جس کے سبب ناجائز قابضین کو کافی سہولت ہے۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی مکمل اراضی کا دوبارہ سروے کیا جائے تاکہ فرمان کے مطابق 1628 اراضی کی نشاندہی ہوسکے۔ سروے آف انڈیا اور نیشنل رموٹ سینسنگ ایجنسی کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یونیورسٹی کے سیول انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ نے سروے کا اہتمام کیا تھا۔ گورنر سے درخواست کی گئی کہ یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے وہ اراضی کے تحفظ کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کریں۔ گورنر سے اپیل کی گئی کہ یونیورسٹی کے لیے بائونڈری وال کی تعمیر کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کو 200 کروڑ روپئے منظور کرنے کی ہدایت دیں۔ گورنر نے نمائندگی پر ہمدردانہ غور کرنے اور اراضی کے تحفظ کے اقدامات کا تیقن دیا۔