عدالتوں میں خاندانی علحدگی سے متعلق مقدمات میں اضافہ باعث تشویش

   

مصالحت کے ذریعہ اختلافات کی یکسوئی کامشورہ، والینٹرس کے ٹریننگ سے کارگزار چیف جسٹس سوجے پال کا خطاب
حیدرآباد ۔10۔فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس سوجے پال نے عدالتوں میں علحدگی اور طلاق سے متعلق درخواستوں میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سماج کے بااثر افراد کو چاہئے کہ وہ مصالحتی کوششوں کے ذریعہ گھریلو تنازعات کی یکسوئی کریں تاکہ خاندانوں میں علحدگی کے رجحان میں کمی واقع ہو۔ جسٹس سوجے پال کمیونٹی والینٹرس کیلئے ٹریننگ پروگرام سے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام تلنگانہ اسٹیٹ لیگل سرویسز اتھاریٹی نے کیا تھا ۔ جسٹس سوجے پال تلنگانہ اسٹیٹ لیگل سرویسز اتھاریٹی کے سرپرست اور اگزیکیٹیو چیرمین ہیں۔ کارگزار چیف جسٹس نے کہا کہ خاندانوں میں علحدگی کیلئے عدالتوں میں درخواستوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں دائر کی جانے والی درخواستوں میں زائد درخواستیں علحدگی اور طلاق سے متعلق ہے۔ کارگزار چیف جسٹس نے بتایا کہ ورنگل ضلع میں حال ہی میں مصالحت سے متعلق والینٹرس کے اجلاس میں انہوں نے سامعین سے سوال کیا کہ رشتہ داروں اور خاندان سے علحدگی کے ماسوا درخواست گزار اپنے ہاتھ اوپر کریں۔ کارگزار چیف جسٹس کے مطابق مصالحت کیلئے آئے ہوئے 600 افراد میں صرف 4 افراد نے ہاتھ اٹھایا جن کا مقدمہ علحدگی سے متعلق نہیں تھا ۔ جسٹس سوجے پال نے علحدگی کے رجحان میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سماج کے بااثر افراد کو ثالثی کے ذریعہ اختلافات کی یکسوئی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ طبقات کی سطح پر کمیونٹی سنٹرس قائم کرتے ہوئے مصالحت کی مساعی کی جاسکتی ہے تاکہ مقدمات کی تعداد میں کمی ہو۔ کیرالا میں اس تجربہ کا آغاز کیا گیا ہے ۔ سماج کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے سابق عہدیدار اور با اثر افراد کے تعاون سے یہ کام انجام دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام آباد ضلع میں قائم کردہ کمیونٹی سنٹر کے ذریعہ 142 مقدمات کے منجملہ 72 مقدمات کی یکسوئی کی گئی ۔ کاما ریڈی میں 20 مقدمات میں 9 کی یکسوئی مصالحت کے ذریعہ کی گئی۔ کمیونٹی سنٹرس میں مصالحتی کوششوں کے بارے میں والینٹرس اور رضاکارانہ تنظیموں کے لئے ٹریننگ پروگرام منعقد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی تنظیموں اور کارکنوں کو اس کام میں دلچسپی لینی چاہئے ۔ جسٹس سوجے پال کے مطابق نظام آباد ضلع میں قائم کردہ 22 مراکز کے ذریعہ عدالت کے باہر 5000 سے زائد مقدمات کی یکسوئی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے تمام طبقات کو اس مساعی میں شامل کیا جانا چاہئے۔ تجارتی ، مذہبی ادارں کے علاوہ ماہرین تعلیم ، ریٹائرڈ عہدیداروں اور صحافیوں کو اس مہم میں شامل ہونا چاہئے ۔ جسٹس سوجے پال نے رضاکارانہ تنظیموں اور ان کے کارکنوں کی ستائش کی جنہوں نے ٹریننگ پروگرام میں حصہ لیا ۔ ریٹائر ڈ جج روی کمار اور لیگل سرویسز اتھاریٹی تلنگانہ کے ممبر سکریٹری سی ایچ پنچاکشری اور دوسروں نے پروگرام میں شرکت کی۔1