مظہر تہذیب ہے اک ایک تار پیرہن
بس یونہی اندازۂ سود و زیاں کرتے چلو
عدالتی فیصلوں کا سیاسی استعمال
ہندوستان میں عدالتوں اور نظام عدلیہ کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا ہے ۔ یہ احترام کیا جانا بھی ضروری ہے کیونکہ عدالتیں غیر جانبدارانہ انداز میں اور ثبوت و شواہد کی بنیاد پر کام کرتی ہیں۔ عدالتی فیصلوں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے تاہم دیکھا گیا ہے کہ حالیہ عرصہ میں ملک میں مسلح افواج کے کارناموں اور اب عدالتی فیصلوں کا بھی سیاسی استعمال کیا جانے لگا ہے ۔ عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ کوششیں ملک کے اقتدار اعلی کی جانب سے بھی ہو رہی ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں اور وہاں اقتدار کی دعویدار مختلف جماعتوں کی جانب سے پوری شدت کے ساتھ مہم چلائی جا رہی ہے ۔ بی جے پی اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے کئی طرح کے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے ۔ انتخابی مہم میں ووٹرس کو دھمکانے اور ڈرانے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ارکان اسمبلی ووٹرس کو اس راشن کا حوالہ بھی دے رہے ہیں جو حکومت نے کورونا بحران کے دوران تقسیم کیا تھا ۔ ہر طرح سے ووٹرس کو رجھانے کی کوششیں ہو رہی ہیں اس کے باوجود بی جے پی کو عوام کی تائید حاصل نہیں ہو رہی ہے ۔ ایسے میں بی جے پی کی جانب سے اب عدالتی فیصلوں کا بھی سیاسی مفاد کیلئے استعمال کیا جانے لگا ہے ۔ پہلے تو سارے اترپردیش میں بی جے پی کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ رام مندر کی تعمیر کی راہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعہ ہموار ہوئی ہے ۔ عدالت نے اعتقاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے مندر کی تعمیر کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور اس کیلئے ٹرسٹ بھی قائم کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ عدالت کے فیصلے کو بی جے پی اپنے کارنامے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن اترپردیش کے عوام کی بڑی تعداد نے اس بیان بازی کو قبول نہیں کیا اور اسے عدالتی فیصلے کا نتیجہ ہی قرار دیا ۔ ریاست کے عوام بی جے پی سے مہنگائی ‘ بیروزگاری اور دوسرے مسائل پر سوال کر رہے ہیں جن کا بی جے پی عوام کو جواب دینے کے موقف میں ہرگز نظر نہیں آتی ۔
اب وزیر اعظم نے بھی اترپردیش کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے بعد خود ایک عدالتی فیصلے کو سیاسی فائدہ کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ گذشتہ دنوں عدالت نے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمہ میں کئی ملزمین کو سزائے موت سنائی اور کچھ کو سزائے عمر قید بھی سنائی گئی ہے ۔ عدالت نے ثبوت و شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے ۔ یہ عدالتی عمل کا حصہ ہے اور اگر کسی کوا س فیصلے سے اتفاق نہیں ہے تو اس کے خلاف اپیل بھی کی جاسکتی ہے ۔ یہ ایک الگ موضوع ہے تاہم وزیر اعظم نے اس فیصلے کو بھی اپنے سیاسی فائدہ کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے جو افسوسناک ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کیلئے کہہ دیا کہ احمد آباد میں سلسلہ وار بم دھماکوں کیلئے جو بم رکھے گئے تھے وہ سائیکل پر رکھے گئے تھے ۔ در اصل اترپردیش میں سائیکل سے بی جے پی کو بڑی پریشانی لاحق ہو رہی ہے ۔ انتخابی ریس میں سائیکل پوری رفتار کے ساتھ دوڑ رہی ہے ۔ سائیکل سماجوادی پارٹی کا انتخابی نشان ہے ۔ پہلے وزیر اعظم نے سماجوادی پارٹی کی لال ٹوپی کو نشانہ بنایا تھا اور اب انہوں نے سائیکل کو نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ انہوں نے بم دھماکوں کے وقت ہی تہئیہ کرلیا تھا کہ ملزمین کو سزائیں دلائی جائیں گی ۔ ملک میں کہیں بھی کوئی واردات یا جرم ہوتا ہے تو اس کے خاطیوں کو لازما سزائیں دلائی جانی چاہئیں اور ایسا کرنا پولیس اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں اور حکومت کی ذمہ داری ہے اور فریضہ ہے ۔ یہ حکومتوں کا کارنامہ نہیں کہا جاسکتا ۔
انتخابی ماحول میں فرقہ وارانہ نوعیت کے مسائل کو ہوا دیتے ہوئے یا پھر دہشت گردانہ کارروائیوں اور ان پر عدالتوں کے فیصلوں کا سیاسی استعمال کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم خود اس طرح کی بیان بازی کرتے ہوئے اپنے سیاسی فائدہ کیلئے کوشاں ہیں۔ اس سے دوسروں کیلئے بھی ایک خراب مثال پیدا ہوگی ۔ وزیر اعظم ہوں یا دوسرے قائدین ہوں انتخابات میں سیاسی فائدہ کیلئے عدالتی فیصلوں کے استحصال سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک میں ایک غلط نظیر قائم کرنے سے سبھی کو گریز کرنا چاہئے ۔ یہی عدالتوں کا حقیقی احترام بھی ہوگا ۔
