عراق میں اجتماعی قبر سے تقریباً 100 کرد خواتین اوربچوں کی باقیات برآمد

   

بغداد: عراق کے جنوبی صوبہ مثنیٰ کے علاقے تل الشیخیہ میں ایک اجتماعی قبر سے ایک سو کرد خواتین اور بچوں کی باقیات ملی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ انہیں 1980 کی دہائی میں صدام حسین کے دورِ حکومت میں قتل کیا گیا تھا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عراقی حکام کا کہنا ہے کہ لاشوں کی باقیات کو نکالنے کا کام جاری ہے۔عراقی عہدیدار ضیا کریم نے بتایا کہ یہ اجتماعی قبر 2019 میں دریافت ہوئی تھی اور رواں ماہ کے آغاز پر خصوصی ٹیموں نے باقیات کو نکالنے کا کام شروع کیا ہے۔ضیا کریم کے مطابق اسی مقام پر دریافت ہونے والی یہ دوسری اجتماعی قبر ہے۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ مٹی کی پہلی تہہ ہٹانے کے بعد باقیات زیادہ واضح طور پر نظر آنا شروع ہوئیں جس سے معلوم ہوا کہ بچے اور خواتین یہاں دفن تھے جنہوں نے موسم بہار کی مناسبت سے لباس پہنے ہوئے تھے۔ضیا کریم کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور یہ جنوبی صوبہ سلیمانیہ کے علاقے کلار سے یہاں آئے تھے جنہیں بعد میں یہاں دفنایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ان کی تعداد ایک سو سے کم نہیں ہے تاہم بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔