اقبال اکیڈیمی کے جلسہ سے جناب محمد ضیاء الدین نیر و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔/13 نومبر، ( پریس نوٹ ) بیسویں صدی میں اُبھرنے والی اقبال کی توانا شعری آواز نہ صرف ماضی بلکہ حال اور مستقبل میں بھی معنویت رکھتی ہے اور عصری ہندوستان میں علامہ اقبال ہمارے لئے زینت نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب محمد ضیاء الدین نیر صدر اقبال اکیڈیمی نے گلشن خلیل میں منعقدہ ’ محفل اقبال ‘میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اقبال دوستی کا رجحان ہندوستان میں عام ہوجائے تب مساوات، اخوت اور بھائی چارگی کا ماحول پیدا ہوگا کیونکہ اقبال کے کلام کا حاصل عظمتِ انسان ہے۔ ’’برتراز گردوں مقام آدم است۔اصل تہذیب احترام آدم است‘‘انہوں نے کہا کہ تاریخ قوموں کا حافظہ ہے اور اسلاف کے کارناموں کا عظیم سرمایہ ہے۔ علامہ اقبال نے نومبر 1929 ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ ایک دوسری بات جس پر زور دینا چاہتا ہوں وہ ہمارا انکشاف ماضی ہے۔ میں ان لوگوں میں نہیں جو صرف اپنے ماضی سے محبت کرتے ہیں ، میں تو مستقبل کا معتقد ہوں ، مگر ماضی کی ضرورت مجھے اس لئے ہے کہ میں حال کو سمجھوں۔ اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ سرچشمہ تہذیب و شائستگی کو سمجھا جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آج دنیائے اسلام میں کیا ہورہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ فکر اقبال کی کما حقہ تفہیم کیلئے علامہ اقبال کی فارسی شاعری، انگریزی خطبے، اردو شاعری، خطوط، تقاریر اور یادداشتیں کے مجموعوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ جناب محمد ضیاء الدین نیر نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری کی طرح ان کی نثر بھی اہمیت و افادیت کا حامل ہے، اور اقبال کی نثر بالخصوص خطبات ’’ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ ‘‘ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ جناب ضیاء الدین نیر نے اقبال اکیڈیمی کی تاریخ اور سرگرمیوں پر جامع روشنی ڈالی۔ جناب محمد عبدالعزیز صدر ایم پی جے تلنگانہ نے کہا کہ علامہ اقبال نے اسلاف کی تہذیب، تمدن اقدار، ثقافت اور تشخص کی عظمت و رفعت کو اپنی شاعری میں بیان کیا ہے اور ہمارا فریضہ ہے ہم تہذیبی ورثہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے کمر بستہ ہوجائیں۔ انہوں نے علامہ اقبال کے آفاقی پیغام کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ جہاں انسانی شعور کو عروج کی طلب ہوگی وہاں اقبال کے کلام کی ضرورت ہوگی۔ علامہ اقبال نے نظم و نثر سے عالم میں ہمدردی ، ایثار، قربانی اور باہمی تعاون کے جذبے کو فروغ دینے کی سعی کی۔ انہوں نے کہا کہ عصرِ حاضر میں ملت اسلامیہ کے درمیان اضطراب اور اجتہاد کی تحریک کے محرک حکیم الامت علامہ اقبال ہیں جن کی دوررس نگاہ نے عصرِ حاضر رواں کی عکاسی، ایک پیش گوئی کی صورت میں ’’ جواب شکوہ ‘‘ میں پہلے سے ہی کردی تھی۔ نئی نسل کو اقبال اور پیام اقبال سے واقف کروانا عصرِ حاضر کا تقاضہ ہے۔ ڈاکٹر طارق مسعودی اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کہا کہ علامہ اقبال کے مطابق تعلیم کا مقصد خودی کا حصول ہے۔ وہ نظریہ خودی سے طلبہ اور نوجوانوں میں جستجو، تخلیق، تحریک، جدوجہد، خود اعتمادی، اولوالعزمی اور محنت کے جذبے کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ حکیم الامت علامہ اقبال تعلیم سے باضمیر، بے لوث، مخلص شخصیات اور محسنین کی تخلیق چاہتے ہیں۔