عصمت دری کی کوشش کے کیس میں جج کا فیصلہ قوم کیلئے شرمناک

   

نئی دہلی: نابالغ لڑکی کی عصمت دری کی کوشش کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کا معاملہ آج لوک سبھا میں اٹھایا گیا اور کہا گیا کہ جج کے بیان سے ملک شرمندہ ہوا ہے اور خواتین شرمسار ہوئی ہیں ۔ لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران عوامی اہمیت کے مسائل کے تحت بی جے پی کے مکیش راجپوت نے کہا کہ ملک میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت بننے کے بعد سے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کئی فیصلے کئے گئے ہیں۔ لیکن الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کے بیان نے دل کو دکھ پہنچایا ہے ۔ راجپوت نے کہا کہ یہ نہیں معلوم کہ کسی ذاتی مفاد کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے انہوں نے کہا ہے کہ عورت کے پرائیویٹ پارٹ کو چھونا، اس کے کپڑے پھاڑنا یا اس کے پاجامے کا ناڑہ کھینچنا عصمت دری کی کوشش نہیں سمجھی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کاس گنج کی ایک 11 سالہ لڑکی کے ساتھ پیش آیا۔ جج کے اس طرح کے غیر حساس بیان سے ملک کے 140 کروڑ عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے ۔ ملک کی خواتین شرمندہ ہو چکی ہیں۔