حیدرآباد۔/21 جون، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے حیدرآباد میں کمسن لڑکیوں پر مظالم کے واقعات میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ تازہ ترین واقعات کے پس منظر میں ریونت ریڈی نے ٹوئٹر پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر علاقوں میں روزانہ ایک لڑکی کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر کی پارٹی اور حلیف پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائدین کے بچے ان مظالم کے لئے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعات میں اس قدر اضافہ کے باوجود فارم ہاوز چیف منسٹر کے سی آر اور وزیر داخلہ نے جائزہ اجلاس طلب کرنا تک مناسب نہیں سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں عصمت ریزی کے کئی واقعات پیش آئے جن کی تفصیلات سے حکومت بخوبی واقف ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر سے فوری جائزہ اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ ریونت ریڈی نے ایک اور ٹوئیٹ میں نرمل ضلع کے ایک گاؤں میں سرکاری اسکول کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بنیادی سہولتوں سے محرومی پر مشتمل ویڈیو کے ساتھ ٹوئیٹر پر لکھا کہ سنہرے تلنگانہ میں سرکاری اسکولوں کی یہ صورتحال ہے۔ ریونت ریڈی نے حال ہی میں چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کل جماعتی اجلاس کا مطالبہ کیا تھا ۔ ر