علم و کردار سے قوم و ملت کو فائدہ پہنچانا ہر مسلمان کی ذمہ داری

   

خاندانی مسائل کی قانونی و شرعی حل کیلئے خدمات کی پیشکش، محبوب نگر میں محمد امتیاز احمد ایڈوکیٹ کا خطاب
محبوب نگر ۔ 22 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) آج دنیا میں تمام قومیں تعلیم حاصل کررہی ہیں لیکن ہر ایک کے تعلیم حاصل کرنے کا مقصد الگ الگ ہے۔ آج ہم سب کو یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلام میں حصول تعلیم کا مقصد کیا ہے اور اسی مقصد کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنا نشانہ مقرر کرکے پورا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار جناب محمد امتیاز احمد (ایڈوکیٹ ہائی کورٹ) و چیرمین برین بنچ اسکول نے برین بنچ اسکول ’’ایڈوفیئر پروگرام‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امتیاز احمد نے مخاطبت جاری رکھتے ہوئے اپنی طویل تقریر کے دوران کہا کہ اگر کوئی صرف اپنی ذات کے لئے علم حاصل کرتا ہے اور ذاتی قابلیت میں اضافہ اس کا مقصد ہے تو وہ مولانا ابو الکلام آزاد کے قول کے مطابق ایک زندہ لاش ہے۔ اپنے علم اور کردار سے اپنے خاندان، قوم و ملت اور ملک کو فیض پہنچانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگوں کے بعد جو کافر قید کرلئے گئے تھے ان کی رہائی کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط رکھی تھی کہ وہ مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں۔ انہوں نے اپنے قیام امریکہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اگر صرف پیسہ کمانا مقصد ہوتا تو میں ملک کو واپس نہ لوٹتا، لیکن ملت کے بچوں کی تعلیم و تربیت، معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے بچوں کی ترک تعلیم نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ میں نے واپسی کی اور برین بنچ اسکول کا قیام عمل میں لایا۔ انہوں نے وہاں موجود سینکڑوں سرپرستوں کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے بچوں کو تعلیم سے محروم نہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سینکڑوں بچے اسکول میں جو فیس ادا نہیں کرسکتے آج مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی دوسری کوشش مسلم خاندانوں سے جھگڑوں کا خاتمہ ہے۔ وراثت اور بیوی شوہر کے جھگڑے سے لے کر آج سینکڑوں لوگ عدالتوں سے رجوع ہو رہے ہیں اور برسہا برس عدالتی رسہ کشی اور رشتوں میں دوریوں کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ اپنے خاندانی مسائل کی قانونی و شرعی دائرہ میں یکسوئی کے لئے ان کی خدمات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ پروگرام میں سرپرستوں کے علاوہ معززین شہر، ماہرین تعلیمات اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی اور طلباء کے تیار کردہ پراجکٹس و ماڈلس کی ستائش کی۔ اس موقع پر بہتر مظاہرہ کرنے والے طلباء میں انعامات کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔