دمشق : شام کے شمالی حصے میں واقع علوی فرقے کے ایک مزار پر حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شام کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔عینی شاہدین اور سیرین آبزرویٹری فار ہومن رائٹس کے مطابق طرطوس اور لتاکیا کے صوبوں کے ساحلی شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ مذکورہ دو صوبے علوی فرقے کے مضبوط گڑھ ہیں۔ شام کے معزول صدر بشار الاسد کا تعلق بھی علوی فرقے سے ہے۔وار مانیٹر گروپ کے مطابق اسد کے آبائی شہر قاراداہا اور حمس شہر کے مخلتف علاقوں میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا لاتاکیہ، جبلہ اور طرطوس صوبے میں مظاہرے ہوئے ہیں۔جبلہ سے آنے والی تصویرں میں بڑی تعداد میں لوگوں کو سڑکوں پر مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا جاسجتا ہے۔ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ’علی سنی، ہم امن چاہتے ہیں۔‘سرکاری خبر رساں ادارے ثنا کے مطابق پولیس نے حمس میں شام چھ بجے سے صبح 8بجے تک کرفیو لگا دیا ہے۔ جبلہ میں بھی حکام نے رات کے وقت کرفیو لگانے کا اعلان کیا ہے۔آبزرویٹری کے مطابق مظاہرے اس وقت پھوٹ پڑے جب چہارشنبہ کی صبح حلب شہر کے ضلع میسالون میں واقع علوی فرقے کے اہم مزار پر مسلح افراد کے حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔رپورٹ کے اس حملے میں مطابق پانچ ورکرز ہلاک ہوئے جب کہ مزار کو جلا دیا گیا۔آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان کے مطابق حملے کی ویڈیو کس تاریخ کی ہے اس کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا۔ان کے مطابق ویڈیو رواں مہینے کے شروع کی ہے جب ھیئتہ التحریر الشام کے جنگجوؤں نے یکم دسمبر کو برق رفتاری کے ساتھ حلب پر حملے کرکے قبضہ کر لیا تھا۔