عمران خان امریکہ کے مہنگے ہوٹل میں قیام نہیں کریں گے

,

   

Ferty9 Clinic

آئی ایم ایف پیاکیج کی منظوری کے بعد اخراجات میں کمی کی ابتداء، پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ پر قیام

اسلام آباد ۔ 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنے دورہ امریکہ کے موقع پر کسی بڑی ہوٹل میں قیام کرنے کو ترجیح نہ دیتے ہوئے واشنگٹن میں واقع پاکستانی سفیر کی سرکاری رہائش گاہ میں قیام کریں گے تاکہ ان کے دورہ پر آنے والے اخراجات کو کم سے کم رکھا جائے۔ حکومت پاکستان اس وقت سخت مالی بحران سے گزر رہی ہے اور ایسے وقت میں ملک کے وزیراعظم کا بھی یہ فرض بنتا ہیکہ وہ اپنے شخصی اخراجات کو بھی کم کریں۔ شاید یہی وجہ ہیکہ گذشتہ سال پاکستان کی وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد عمران خان نے پاکستان میں’’کم خرچ بالانشین‘‘ کی مہم چلا رکھی ہے۔ 21 جولائی سے عمران خان کے تین روزہ دورہ امریکہ کا آغاز ہورہا ہے اور اس تعلق سے متعلقہ حکام نے واشنگٹن میں موجود پاکستانی سفارتخانہ کو یہ اطلاع دی ہیکہ وزیراعظم اپنے دورہ پاکستان کے دوران کسی مہنگے ہوٹل میں قیام نہیں کریں گے۔ اس وقت پاکستان کی معیشت انتہائی پستی کا شکار ہے وار اگر اخراجات پر کنٹرول کا کام خود وزیراعظم سے شروع ہو تو یہ دوسروں کیلئے مثال بن سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکیٹیو بورڈ نے گذشتہ ہفتہ تین سال کیلئے پاکستان کو 6 بلین ڈالرس کا قرض دینا منظور کیا ہے تاہم پاکستان کو اس کیلئے آئی ایم ایف کی چند سخت ترین شرائط کو ماننا پڑے گا جس سے یہ واضح ہوجاتا ہیکہ حکومت پاکستان قرِض کے حصول کے بعد اخراجات میں کمی کرنے کو اولین ترجیح دے گی۔ اخبار ڈان کی اطلاع کے مطابق پاکستانی سفیر متعینہ امریکہ کی سرکاری رہائش گاہ پر قیام کرنے سے وزیراعظم کے دورہ پر ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی ہوگی تاہم وزیراعظم کے اس متبادل سے امریکہ کی سیکریٹ سرویس اور سٹی ایڈمنسٹریشن دونوں ہی مطمئن نہیں ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ سیکریٹ سرویس کی یہ ذمہ داری ہیکہ وہ دورہ پر آنے والے کسی بھی غیرملکی سربراہ مملکت کے امریکہ میں قدم رکھتے ہی سیکوریٹی کے انتظامات اپنے ذمہ لے لیتی ہے جبکہ سٹی ایڈمنسٹریشن کا یہ فرض ہوتا ہیکہ وہ اس بات کا خاص خیال رکھے کہ دورہ پر آنے والے سربراہ مملکت کی وجہ سے واشنگٹن کا ٹریفک نظام درہم برہم نہ ہو۔ دوسری طرف امریکہ میں پاکستان کے سفیر کی سرکاری رہائش گاہ واشنگٹن کے قلب میں واقع ڈپلومیٹک کانکلیو میں ہے اور اس علاقہ کے علاوہ آس پاس کے علاقوں میں بھی تقریباً ایک درجن ممالک کے سفارتخانے جن میں ہندوستان، ترکی اور جاپان کے سفارتخانے بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں دورہ پر آنے والے سربراہ مملکت واشنگٹن میں امریکی حکام، قانون سازوں، میڈیا اور تھنک ٹینک نمائندوں کے ساتھ کئی اجلاس منعقد کرتے ہیں اور ان تمام اجلاس کے انعقاد کیلئے چونکہ پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ میں گنجائش نہیں ہے لہٰذا عمران خان کو اپنے مہمانوں سے پاکستانی سفارتخانہ میں ملاقات کرنا پڑگے گی جس کیلئے انہیں واشنگٹن جیسے شہر کی مصروف ترین ٹریفک سے گزرنا پڑے گا جو یقینی طور پر سٹی ایڈمنسٹریشن کیلئے دردسر ثابت ہوسکتا ہے۔