عمران خان اور اشرف غنی میں قیام امن اور باہمی اعتماد پر بات چیت

   

Ferty9 Clinic

اسلام آباد ۔ 27 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان عمران خان اور صدر افغانستان اشرف غنی نے جمعرات کے دن ہوئی ملاقات کے دوران جنگ زدہ افغانستان میں پائیدار قیام امن کیلئے تفصیلی بات چیت کی اور اس بات پر باہمی رضامندی کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کو اب دوستی اور تعاون کے نئے باب کا آغاز کرنا چاہئے۔ اشرف غنی کے دو روزہ دورہ پاکستان کے موقع پر اسلام آباد آمد پر عمران خان سے ان کی علحدہ ملاقات ہوئی تھی جہاں قیام امن اور باہمی تعلقات بات چیت کے اہم موضوعات تھے۔ دریں اثناء وزیراعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی بنیاد باہمی اعتماد اور بھائی چارہ پر مبنی ہوگی جس کی وجہ سے افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ پاکستان میں موجود دہشت گرد گروپس کے افغانستان میں دہشت گردانہ حملے انجام دیئے جانے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں جبکہ پاکستان خود بھی افغانستان پر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ دریں اثناء عمران خان نے کہاکہ پاکستان ۔ افغانستان تعلقات میں خوشگوار تبدیلی لانے کیلئے پاکستان اپنے وعدہ کا پابند ہے کیونکہ پاکستان نے اپنے نظریہ کو ایک نئی سمت دیتے ہوئے پڑوسی ممالک میں امن کی برقراری کو یقینی بنانے کا عزم کر رکھا ہے۔ دونوں قائدین نے توانائی کو جوڑنے والے مختلف اہم پراجکٹس جیسے سنٹرل ایشیاء ۔ ساؤتھ ایشیا (کاسا 1000) الیکٹریسٹی ٹرانسمیشن لائن اور ترکمنستان۔ افغانستان۔ پاکستان۔ انڈیا (TAPI) گیس پائپ لائن کی بعجلت ممکنہ تکمیل کے موضوع پر بھی تفصیلی بات چیت کی۔
جمہوریت کے تیئں پرعزم ہیں جاپان۔امریکہ ۔ ہندوستان :مودی
اوساکا، 28جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے جمہوریت کے تیئں ہندوستان کے عزم کو دہراتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ جس طرح ’جے‘ کے معنی ہندوستان میں ’وجے‘ ہوتے ہیں اسی طرح جاپان۔امریکہ ۔ہندوستان (جے ) کاخاکہ دنیا میں جمہوری اقدار کو بحال کرنے میں کارگر ثابت ہو گا ۔ مودی نے یہاں جی -20 چوٹی کانفرنس سے الگ ہندوستان ، امریکہ اور جاپان کے درمیان ہوئی سہ فریقی ملاقات کے دوران یہ بات کہی۔ مسٹر مودی نے جاپان کے اوساکا شہر میں ہوئے سہ فریقی مذاکرات میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور جاپان کے وزیر اعظم شنزوآبے سے ملاقات کی ۔ مودی نے حالیہ انتخابات میں فتح حاصل کرنے پر انہیں مبارک دینے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا ’’صدر جی ہمیں مبارک باد دینے کیلئے آپ کا شکریہ ۔ ہمارے لئے ’جے‘ (جاپان، امریکہ اور ہندوستان) کے معنی ہیں وجے – ہم سبھی تینوں ممالک جمہوریت کے تیئں پرعزم ہیں‘‘۔
مسٹر مودی نے کہا‘‘ہم گزشتہ مرتبہ ارجنٹائن میں ملے تھے ۔ آج ہمیں دوبارہ ملنے کا موقع ملا ہے ، ہمارے نقطہ نظر کو پہلے سے زیادہ قوت اور اعتماد ملا ہے ۔ میں مانتا ہوں کہ ہمارے درمیان بامقصد گفت و شنید ہوگی ۔ مسٹر مودی نے ہند بحیر ہ الکا ہل کے علاقے کے متعلق تینوں ممالک کے مشترکہ مفادات کا بھی ذکر کیا ۔