عمران خان حکومت کا مستقبل

   

Ferty9 Clinic

پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ عمران خان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی ہے ۔ اس پر ملک بھر میں سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اپنی تحریک کو ایوان میں منظوری دلانے کیلئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہوگئی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ( نواز ) اور پیپلز پارٹی بھی اس تحریک پر ایک موقف رکھتے ہیں۔ یہ جماعتیں بھی کسی بھی قیمت پر ایوان میں عمران خان کو شکست دینے کوشاں ہیں۔ عمران خان کو اصل مصیبت اپنے ہی ارکان سے اورا پنی حلیف جماعتوں سے ہے ۔ خود پی ٹی آئی کے کچھ ارکان نے ایک ناراض گروپ بنالیا ہے اور وہ عمران خان کے خلاف سرگرم ہوگئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کے خلاف یہ گروپ اپوزیشن سے بھی بات چیت کر رہا ہے اور سودے بازی میں مصروف ہے تاکہ اپوزیشن کا ساتھ دیتے ہوئے حکومت کو زوال کا شکار کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ عمران خان نے بھی اپنی حکومت کو بچانے کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے قائدین اور ارکان اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کیا ہے اور ناراض ارکان کو منانے کیلئے بھی کچھ قائدین کو ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ بحیثیت مجموعی عمران خان کیلئے صورتحال پیچیدہ ہوگئی ہے اور ان کی حکومت کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگیا ہے ۔ خود عمران خان کو یہ یقین ہونا مشکل نظر آ رہا ہے کہ ان کی حکومت بچ جائے گی ۔ اس کے علاوہ اپوزیشن میں جو جوش و خروش پایا جاتا ہے اس کو دیکھتے ہوئے بھی حکومت کے مستقبل پرا ندیشے پیدا ہونے لگے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جہانگیر ترین کی قیادت میں ایک گروپ حکومت کے خلاف پریشر گروپ کے طور پر کام کر رہا ہے اور وہ کس کروٹ بیٹھے گا یہ پورے یقین سے کہا نہیں جاسکتا ۔ صورتحال اس حد تک بگڑ گئی ہے کہ بعض قائدین سے رابطے کرنے کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہو رہی ہیں اور کچھ تو کھلے عام حکومت پر تنقیدیں کر رہے ہیں یا سودے بازی پر اتر آئے ہیں۔ وہ حکومت کی تائید کرنے اپنی شرائط منظور کروانا چاہتے ہیں۔
عمران خان نے جس وقت پاکستان میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو کئی توقعات ان سے وابستہ کی جا رہی تھیں۔ کہا جا رہا تھا کہ وہ کرکٹ کے میدان میں جس مہارت کا مظاہرہ کیا کرتے تھے اسی طرح ملک کے حالات کو بھی بہتر بنانے کیلئے کوشش کریں گے ۔ ان کی قیادت میں ملک کی معاشی مشکلات کو دور کرنے میں کامیابی ملے گی۔ تاہم ایسا ہوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ ملک کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان زیادہ مقروض ہوگیا ہے ۔ عالمی مالیاتی اداروں سے بار بار مدد طلب کرنے پر مجبور ہوگیا ہے ۔ مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس نے ابھی تک پاکستان کو دہشت گردی کے معاملے میں کلین چٹ نہیں دی ہے ۔ پاکستان کا زیادہ تر انحصار چین پر ہوگیا ہے ۔ عالمی سطح پر وہ یکا و تنہا ہوتا جا رہا ہے ۔ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے فوری بعد عمران خان نے روس کا دورہ کرتے ہوئے روس سے تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے تاہم ابھی یہ دورہ کیا نتائج کا حامل ہوگا اس تعلق سے کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ پاکستان میں بدعنوانیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ معاشی صورتحال حد درجہ تشویشناک ہوگئی ہے ۔ عمران خان حکومت معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے اور بحیثیت وزیر اعظم عمران خان اپنی ہی پارٹی کے قائدین کو کنٹرول میں رکھنے میں بھی ناکام ہوگئے ہیں۔ کرکٹ کے میدان میں کھلاڑیوں پر تو وہ نظر رکھا کرتے تھے لیکن اپنی پارٹی کے قائدین اور وزیروں پر ان کا کنٹرول زیادہ نہیں رہ گیا ہے ۔
عمران خان کی اسی ناکامی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن جماعتیں انہیں قومی اسمبلی میں شکست دینے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔ 84 ارکان کی دستخط سے تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہے جس پر آئندہ دنوں میں اجلاس طلب کرتے ہوئے رائے دہی کروائی جاسکتی ہے ۔ عمران خان حکومت کو بچانے کیلئے ہر ممکن جدوجہد تو کر رہے ہیں لیکن اپوزیشن بھی اس موقع کو گنوانا نہیںچاہتا اسی لئے وہ بھی باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت کو شکست دینے کے ایک نکاتی ایجنڈہ پر کام کر رہے ہیں۔ فی الحال یہ کہا نہیں جا سکتا کہ اس تحریک کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ حکومت کا مستقبل غیر یقینی ہے ۔