عوامی خدمات کے نام پر لوٹ

   

Ferty9 Clinic

آزادی کے بعد ہندوستان میں عوامی عہدوں پر وہ افراد فائز ہوئے تھے جو اخلاقیات کو مقدم رکھتے تھے ۔ عوامی خدمات کے جذبہ کے ساتھ کام کرتے تھے ۔ ان کے سامنے اپنے گھر بھرنے کی حکمت عملی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی وہ کسی لمبی چوڑی جائیداد کے مالک ہوا کرتے تھے ۔ چند مٹھی بھر اشیا کے ساتھ خود ساری زندگی گذارتے تھے اور عوام کی خدمت کو اپنا نصب العین بناتے تھے ۔ تاہم گذرتے وقتوں نے عوامی خدمات کو ایک ایسی تجارت بنادیا ہے جس میں ہزاروں فیصد منافع کسی نقصان کے اندیشے کے بغیر ملنے لگا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دولت حاصل کرنے کے خواہاں افراد کسی بھی طرح سے اسمبلی یا پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے بھی وہ کروڑوں روپئے خرچ کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ ان کے سامنے دولت کے حصول کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیںرہ جاتا ۔ وہ صرف اپنا اور اپنے بچوں کا گھر بھرنے اور دولت کے پہاڑ جمع کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ گذشتہ کچھ عرصہ قبل دیکھا گیا کہ ارکان پارلیمنٹ کو ایوان میں سوال اٹھانے کیلئے رقومات کی پیشکش کی گئی تھی اور اسے انہوں نے بخوشی قبول کرلیا تھا ۔ ریاستی اسمبلیوں کے ارکان کا بھی حال اس سے مختلف نہیںہے ۔ وہ بھی صرف اسمبلی کی رکنیت کیلئے منتخب ہونے کے بعد اپنے کاروبار اور تجارت میں اس قدر محو ہوجاتے ہیں کہ ان کے سامنے عوام کے مسائل کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی ۔ ان کا کاروبار اور تجارت بھی جو دکھائی دیتی ہے وہ نہیں ہوتی بلکہ وہ غیر قانونی کاموں سے بھی گریز نہیںکرتے ۔ انہیں ملنے والے عوامی اور دستوری عہدوں کا استحصال کرتے ہوئے دولت جمع کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ ملک میںآئے دن دیکھا جا رہا ہے کہ سیاسی قائدین کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائیاں ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کے خلاف جو الزامات سامنے آ رہے ہیں وہ حیرت انگیز اور چونکا دینے والے کہے جاسکتے ہیں۔ ان کے پاس سے جو دولت ضبط کی جا رہی ہے وہ سب کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے ۔ عوام میں ان کے تعلق سے جو رائے پیدا ہوتی ہے اس کی بھی ان سیاسی قائدین و عوامی نمائندوں کو کوئی فکر نہیںرہ گئی ہے ۔
گذشتہ دنوں مغربی بنگال کے ایک وزیر کو گرفتار کرلیا گیا ۔ ان پر تقررات کے معاملے میں رقومات حاصل کرنے کا الزام ہے ۔ ان کی ایک رفیق کار یا معاون کے گھر سے جو دولت ضبط کی گئی ہے وہ حیرت انگیز ہے ۔ تقریبا پچاس کروڑ روپئے نقدی ضبط کی گئی ہے ۔ یہ صرف نقد رقم ہے ۔ دوسری ضبطیاں اس سے علیحدہ ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح جھارکھنڈ میں کانگریس کے ارکان اسمبلی کو بھی کار میں بھاری رقومات کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا ۔ اس کے علاوہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میںارکان اسمبلی اور وزراء کی بے راہ روی کی داستانیںاب منظر عام پر آنے لگی ہے ۔ یہ ارکان اسمبلی اور وزراء عوامی خدمات انجام دینے کی بجائے بیرون ریاست اور بیرون ملک کے جوئے خانوں کے دورے کر رہے ہیں۔ وہاں شراب و شباب کی محفلوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور بے دریغ رقومات خرچ کی جا رہی ہیں۔ یہ ساری کچھ عوامی دولت ہے جو ان سیاسی قائدین نے ناجائز طریقوں سے حاصل کرلی ہے ۔ عوامی فلاحی اسکیمات کی پرواہ کئے بغیر یہ اپنی ذاتی زندگی کو شاہانہ انداز سے گذارنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ حالانکہ تمام معاملات ابھی تک صرف الزامات تک محدود ہیں لیکن یہ الزامات بھی معمولی نہیں کہے جاسکتے ۔ یہ سنگین الزامات ہیں اوران سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قائدین عوام کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے ہر حد سے گذرنے کیلئے کیوں تیار ہوجاتے ہیں۔ کیوں بے دریغ دولت خرچ کرتے ہوئے اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے عوامی عہدوں کو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ملک کی کئی ریاستوں کے سیاسی قائدین ایسے ہیں جن کے خلاف سنگین الزامات ہیں۔ کوئی ایک بھی لیڈر ایسا نہیںہے جس نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہو یا پھر اپنی ذمہ داری قبول کی ہو ۔ سبھی نے جھوٹ بیانی اور بہانے تراشنے کی کوشش کی ہے ۔ کسی کے پاس بھی اتنی اخلاقی جراء ت نہیں رہ گئی ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ ملک کے عوام کو اس صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ان کے ایک ایک ووٹ کیلئے عاجزی کرنے والے ووٹ حاصل کرنے کے بعد کس روش پر جاتے ہیں اس کو عوام کو اپنے ذہنوں میں رکھنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو ایسے عناصر کو ذہن میںرکھتے ہوئے اپنے ووٹوں کی حفاظت کرنی چاہئے ۔ بے داغ اور حقیقی عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والوں کو آگے لانا عوام کی ذمہ داری ہے ۔