کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے
ملک میں عوامی زندگی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔ عوامی زندگی میں رہنے والے افراد سے کئی گوشوں کو کئی طرح کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ ان کے اخلاق و کردار اور عوام کی خدمت کے جذبہ کے تحت لوگ ان سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اپنے ذاتی اور اپنے آس پاس کے مسائل کی یکسوئی کیلئے ان سے رجوع ہوتے ہیں اور یہ امید کی جاتی ہے کہ یہ لوگ ان کے مسائل کو حل کریں گے ۔ ایسے میں اگر عوامی زندگی میں رہنے والے افراد ہی بے راہ روی اختیار کرنے لگ جائیں اور ان کے خلاف ہی سنگین الزامات عائد کئے جانے لگیں تو اس سے صورتحال کے بے قابو ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔ عوامی زندگی میں کئی باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے ۔ خاص طور پر آج کے اس دور میں جبکہ سوشیل میڈیا عام ہوگیا ہے اور لوگ خود اپنے مسائل کو انٹرنیٹ کے ذریعہ سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر پیش کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں عوامی زندگی میںرہنا ایک طرح سے تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے ۔ جہاں کہیں پاؤں پھسل جائے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں اور اخلاق و کردار اور شبیہہ متاثر ہو کر رہ جاتی ہے ۔حالیہ عرصہ میں دیکھا گیا ہے کہ عوامی زندگی میںرہنے والے افراد کے خلاف کئی گوشوں سے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ خاص طور پر خواتین کو ہراساں کرنے اور ان کے استحصال کے واقعات اور ان کی شکایات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف حکومت میں رہنے والے افراد ہی اس طرح کی شکایات کا شکار ہیں بلکہ عہدیدار ہوں یا فلمی شخصیتیں ہوں یا پھر سماجی کارکن ہوں یا زندگی کے کسی اور شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد ہوں ان کے خلاف خواتین کو ہراسانی کا شکار کرنے کے الزامات عائد کئے جار ہے ہیں۔ خاص طور پر جو لوگ عوامی منتخب نمائندے ہیں ان کے خلاف اس طرح کے الزامات اگر عائد کئے جاتے ہیں تو یہ سنگین ہی کہے جاسکتے ہیں اور یہ زیادہ تشویش کی بات ہوتی ہے ۔ اب ہریانہ کے ایک وزیر کے خلاف ایک خاتون نے اس طرح کے الزام عائد کئے ہیں۔ وزیر موصوف اپنا قلمدان چیف منسٹر کو واپس کرچکے ہیں لیکن وزارت پر برقرار ہیں۔
ہریانہ کے وزیر اسپورٹس سندیپ سنگھ کے خلاف ایک جونئیر اتھیلیٹکس کوچ نے ہراساں کرنے اور اسے نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے ۔ اس نے ہریانہ کے وزیر اسپورٹس سے بھی ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی کی ہے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے مسئلہ کو بیان کیا ہے ۔ وزیر اسپورٹس نے اس الزام کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے امیج کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے اسپورٹس وزارت کا قلمدان چیف منسٹر کو واپس کردیا ہے تاہم وہ وزارت میں بنے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتیں وہ اس قلمدان سے دور رہیں اور اس سارے الزام کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ویسے تو جس کسی کے خلاف الزامات عائد ہوتے ہیں سبھی اس طرح کی بات کرتے ہیں لیکن سندیپ سنگھ کو اس معاملے میں اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزارت سے استعفی پیش کردینا چاہئے تھا ۔ انہوں نے قلمدان واپس کردیا ہے جو محض دکھاوا ہی کہا جاسکتا ہے ۔ وہ وزارت میں وزیر بے قلمدان کی حیثیت سے برقرا ر رہیں گے اور اس کا تحقیقات پر اثر پڑنا لازمی ہے ۔ وہ اگر واقعی بے قصور ہیں اور ان کے خلاف بے بنیاد الزام عائد کرتے ہوئے ان کی شبیہہ متاثر کی جا رہی ہے تو انہیں اپنی وزارت سے بھی استعفی پیش کرتے ہوئے تحقیقات کا سامنا کرنا چاہئے ۔ انہوں نے اگر استعفی پیش نہیں کیا ہے تو چیف منسٹر منوہر لال کھٹر کو چاہئے کہ سندیپ سنگھ کو کابینہ سے علیحدہ کردیں۔
اصل مسئلہ ایک خاتون کی شکایات کا نہیںہے بلکہ اصل سوال عوامی زندگی میں رہتے ہوئے اپنے اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرنے کا ہے ۔ بے راہ روی کا شکار ہوئے بغیر عوامی خدمات کی انجام دہی کیلئے تگ و دو کی جانی چاہئے ۔ اصل مسئلہ اس ذہنیت کا ہے جس کے اثر سے اس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ الزام کس حد تک درست ہے یا بے بنیاد ہے لیکن اس طرح کے واقعات عام ہو رہے ہیںاس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ ضرورت اس ذہنیت کو بدلنے کی ہے جس کے نتیجہ میں یہ واقعات پیش آ رہے ہیں۔ کسی ایک فرد کو نشانہ بنانا مسئلہ کا حل نہیں بلکہ مسئلہ کی جڑ کو ختم کرنے پر توجہ کی جانی چاہئے ۔