عوامی فلاح و بہبود کیلئے مثالی اور منفرد اسکیمات پر عمل آوری

   

Ferty9 Clinic

ضلع نرمل میں 50 ڈبل بیڈ روم مکانات کے دستاویزات مستحقین کے حوالے، ریاستی وزیر اندرا کرن ریڈی کا خطاب

نرمل:ریاستی وزیر جنگلات و ماحولیات اے اندرا کرن ریڈی نے آج ضلع کلکٹر نرمل مشرف علی فاروقی کے ہمراہ نرمل منڈل کے موضع ڈیانگا پور میں 2 کروڑ 52 لاکھ روپے کی لاگت سے جدید تعمیر کردہ 50 ڈبل بیڈروم مکانات کا افتتاح انجام دیا اور مستحق و بے گھر افراد میں ڈبل بیڈروم مکانات کے دستاویزات حوالے کئے۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیر اے اندرا کرن ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن اقدامات کرتے ہوئے مثالی اسکیمات کو روبہ عمل لا رہی ہے جس میں سے ایک ڈبل بیڈروم اسکیم بھی شامل ہے ۔ موضع ڈیانگا پور میں 50 ڈبل بیڈروم 2 کروڑ 52 لاکھ روپیوں کی لاگت سے تعمیر کر کے مستحق افراد کے حوالے کئے گئے انہوں نے کہا کہ موضع ڈیانگا پور میں تالاب کی احاطہ بندی کے لیے ایک کروڑ دس لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں موضع ڈیانگا پور میں سرسبز و شاداب اور صاف صفائی کے لیے خصوصی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب موضع میں 20 لاکھ روپیوں کی لاگت سے گرام پنچایت کی جدید عمارت تعمیر کی جائے گی۔ ریاستی حکومت شہری اور دیہی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو انجام دیتے ہوئے ریاست تلنگانہ کو ملک بھر میں مثالی ریاست بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔ ضلع کلکٹر نرمل مشرف علی فاروقی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلع نرمل میں ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیراتی کاموں کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے انہوں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ضلع نرمل کو جملہ 6686 ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیرات کے کاموں کی منظوری دی گئی ہے جن میں سے 6582 مکانات کا ٹنڈر طلب کرتے ہوئے 4424 مکانات تعمیر ہو چکے ہیں۔ ما باقی مکانات کو جلد از جلد تعمیر کر لیا جائے گا ضلع کلکٹر نے بتایا کہ ڈبل بیڈروم مکانات کی دستاویزات خواتین کے نام پر ہوں گے اور ان مکانات کی خرید و فروخت نہیں کی جا سکتی ہے انہوں نے بتایا کہ ان مکانات کی تعمیر کرنے کا اصل مقصد غریب و بے گھر افراد کو چھت تلے زندگی گزر بسر کرنے کے لیے سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر آر ڈی او نرمل راتھوڑ رمیش، ایم ایم پی رامیشور ریڈی، ٹی آر ایس قائدین مرلی دھر ریڈی، رام کشن ریڈی، وینکٹ رام ریڈی، رام چندر، سرپنچ سریتا کے علاوہ عوام کی کثیر تعداد موجود تھی۔