پھر اس کا روشنی سے تعارف نہ ہوسکا
جو شخص راستوں کے اندھیروں سے ڈر گیا
ملک بھر میں عوام کو کئی مسائل کا سامنا ہے ۔ کوئی ایک شعبہ حیات ایسا نہیں ہے جس میں عوام مسائل کا شکار نہیں ہیں۔ تاہم افسوس اس بات کا ہے کہ ان مسائل پر توجہ کرنے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں ہے ۔ مرکزی حکومت ہو یا پھر ملک کی مختلف ریاستوں کی حکومتیں ہوں سبھی کی جانب سے عوامی مسائل کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے سیاسی راستے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ اپنے مفادات اور مستقبل کی فکر میں سبھی سیاستدان مصروف ہیں۔ انہیں اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کی فکر ہی لاحق ہے ۔ وہ اس ذمہ داری کو فراموش کرچکے ہیں جس کا انہوں نے عہد کیا تھا ۔ وہ عوام کی خدمت کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے اور حلف لیتے ہوئے انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے ۔ ملک کی تقریبا سبھی سیاسی جماعتوں نے عوام نے مختلف وعدے کئے تھے ۔ انہیں ہتھیلی میں جنت دکھائی تھی ۔ اس کے باوجود عوام کو درپیش مسائل پر توجہ کرنے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں ہے ۔ ہر کوئی اپنے اپنے فائدے اور اپنے مستقبل کو یقینی بنانے کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہے ۔ آج عوام کے جو حالات ہیں وہ شائد پہلے کبھی نہیں رہے تھے ۔ آج مہنگائی اپنی حدوں کو چھو رہی ہے ۔ خوردنی تیل سے کر لے کر فیول تک ‘ ادویات سے لے کر دودھ تک ‘ ترکاریوں سے لے کر دالیں تک ‘ غذائی اجناس سے لے کر عام استعمال کی اشیاء تک کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور یہ سلسلہ ابھی رکا بھی نہیں ہے ۔ جہاں عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے وہیں بجلی کی شرحیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ ایک طرح سے عوام پر چومکھا وار کیا جا رہا ہے ۔ ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے ۔ پکوان گیس کی قیمتیں مسلسل بڑھتے ہوئے عوام کی پہونچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ مرکزی حکومت کی اسکیم کے تحت غریب عوام کو جو گیس سلینڈرس فراہم کئے گئے تھے وہ سلینڈرس کو خالی رکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ وہ ان میں گیس بھرانے کی قیمت چکانے کے موقف میں نہیں ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے ذریعہ جہاں راست عوام پر بوجھ عائد کیا گیا ہے وہیں ان کی وجہ سے دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کا بالواسطہ بوجھ بھی الگ ہے ۔
تعلیم کے میدان میں بھی اخراجات بے تحاشہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ ملک کی کسی ایک ریاست تک یہ صورتحال محدود نہیں ہے ۔ تقریبا ہر ریاست میں خانگی اسکولس کی فیسوں میں من مانی اضافہ کرتے ہوئے عوام کو مجبور کیا جا رہا ہے ۔ نصابی کتب تک مہینگی کردی گئی ہیں۔ بچوں کے اسکولی ڈریس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اس سب کے باوجود عوام کو راحت پہونچانے کیلئے کوئی حکومت تیار نظر نہیں آتی ۔ ہر حکومت کو ہر سیاسی جماعت کو ہر وزیر کو اور ہر عوامی نمائندے کو اپنے مفادات کی فکر لاحق ہے ۔ اپنے مستقبل کے تعلق سے یہ سب فکرمند ہیں۔ انہیں آئندہ انتخابات کی کامیابی کی فکر لاحق ہے اور اسی لئے کبھی ہندوتوا کے نام پر تو کبھی سکیولر ازم کے نام پر ‘ کبھی کسی مندر کے نام پر تو کبھی کسی مسجد کے نام پر ‘ کبھی بیف کے نام پر تو کبھی کسی کے لباس کے نام پر ‘ کبھی حجاب کے نام پر تو کبھی حلال کے نام پر عوام میں اختلافات اور نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ سماج میںیکجہتی پیدا کرنے کی بجائے اختلافات کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹاتے ہوئے اپنی سیاسی روٹیاں سینکی جا رہی ہیں۔ ملک میں بیروزگاری کی شرح کئی دہوں میں سب سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ ڈالر کے مقابلہ میں روپئے کی قدر گرتی جا رہی ہے ۔ اس کی وجہ سے عوام پر بوجھ الگ سے عائد ہو رہا ہے ۔ صنعتی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کئی اداروں میں ملازمتیں کم کی جا رہی ہیں ۔ اس کے باوجود حکومتیں حرکت میں آنے کیلئے تیار نظر نہیں آتیں۔
حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کی توجہ ہے تو اس پر کہ کون حلال غذا استعمال کرتا ہے یا کون حجاب کا استعمال کرتے ہیں۔ کس کی غذائی عادات کیا ہیں اور کون کس طرح کی طرز زندگی اختیار کرتا ہے ۔ کس مسجد کے صحن میں شیولنگ ہے اور کس مندر کو منہدم کرکے دوسری عبادت گاہ تعمیر کی گئی ہے ۔ اگر حکومتوں کی توجہ ہے تو اس بات پر کہ ملک کی شاندار تاریخ اور تہذیبی ورثہ کو کس طرح سے تبدیل کیا جائے اور کس طرح سے تاریخی حقائق کو بدلا جائے ۔ ملک میں جس طرح کے حالات درپیش ہیں ان کے مطابق ضروری ہے کہ حکومت کی اپنی ترجیحات میں تبدیلی لائی جائے ۔ عوام کو درپیش مسائل کی یکسوئی کیلئے جامع منصوبے تیار کئے جائیں۔ ان کے ذریعہ عوام کو راحت پہونچانے پر توجہ دی جائے ۔ سماج میںنفرت کو فروغ دینے کی بجائے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
پاکستان کی معیشت
پاکستان میں بھی حالات سری لنکا کی طرح دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر معاشی سرگرمیاں ایک طرح سے ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیںاور ملک میں نقدی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ چین کے کچھ بینکوں کی جانب سے پاکستان کیلئے حالانکہ 2.3 بلین ڈالرس کا قرض فراہم کیا گیا ہے لیکن یہ عارضی انتظام ہے ۔ جس طرح سے ملک بھر میں عوام پر مہنگائی کا بوجھ عائد کیا جا رہا ہے اس سے حالات سدھرنے کی بجائے مزید بگڑنے کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی جو معاشی پالیسیاں رہی ہیں ان کی وجہ سے ملک کے حالات میں کوئی سدھار پیدا نہیں ہو رہا ہے ۔ پاکستان کو معاشی امور میں اپنی پالیسیوں میں بنیادی سطح سے تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ اڈھاک بنیادوں پر اقدامات کرنے کی بجائے جامع اور دیرپا اثرات والے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ کرپشن کے خاتمہ کیلئے خاص طور سے حکمت عملی بنائی جانی چاہئے ۔ عوام میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کے ساتھ حکومت کے ذمہ داروں کو بھی خود کا احتساب کرنا چاہئے ۔ جب تک حکومت اور عوام کے درمیان اس مسئلہ پر اتفاق رائے نہیں ہوجاتا اور سخت فیصلے کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں نہیںلائی جاتیں اس وقت تک حالات کو بہتر بنانا ممکن نہیں ہوگا اور پاکستان کے معاشی دیوالیہ ہونے کا خطرہ بڑھ جائیگا ۔
