کاماریڈی ایم ایل اے کی ہراسانی سے عہدیداران بھی تنگ : کانگریس ضلع صدر
کاماریڈی۔23 نومبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) صدرِ ضلع کانگریس کیلاش سرینواس راؤ حلقہ کانگریس پارٹی کے قائدین ،کاماریڈی ٹاؤن کانگریس پارٹی آفس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رکن اسمبلی کاماریڈی کی نااہلی کی وجہ سے انٹیگریٹڈ ریزیڈنشیل اسکول کاماریڈی حلقہ میں تمام سہولیات ہونے کے باوجود بھی یہ ا سکول جکل حلقے کے لیے منظور کیا گیا۔ ریاست میں 13 نرسنگ کالج منظور کیے گئے لیکن ان کے رویے کی وجہ سے کاماریڈی کے لیے ایک بھی منظور نہیں ہو سکا۔ حکومت کے مشیر شبیر علی کاماریڈی کی ترقی کیلئے فنڈس لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ کے سرینواس راؤ نے کہا کہ رکن اسمبلی کاماریڈی دونوں چیف منسٹر کو ہرانے پر فخر محسوس کر رہے ہیں ، ان کے رویے سے سرکاری عہدیدار بھی تنگ آ چکے ہیں اور تبادلہ یا چھٹی لے کر یہاں سے چلے جا رہے ہیں ۔ ٹی وی انٹرویوز میں مائیکروفون پکڑ کر لیکچر دیتے ہیں کہ میرا مشن کرپشن فری گورننس فراہم کرنا ہے۔لیکن انہوں نے ڈگری کالج کی زمین ہڑپ کر نے کے علاوہ آروڑا کالج پر 17 کروڑ کے قرض کا بوجھ عائد کیا۔ کیا وہ کالج کی زمینوں اور کرپشن کے مسئلے پر عوامی بحث کے لیے تیار ہیں؟ آپ کو جتوانے والی کاماریڈی کی عوام پچھتاوے میں ہے ، اگر ریونت ریڈی جیت جاتے تو کاماریڈی ترقی کے معاملے میں ریاست میں پہلے نمبر پر رہتی تھی ۔ تعلیمی ادارے، آبپاشی پینے کا پانی اور صنعتوں کے پراجیکٹس کاماریڈی میں آئے ہیں تو یہ شبیر علی کے ذریعہ ہی ممکن ہوا ہے جو چیف منسٹر کے بے حد قریب ہے جس کی وجہ سے فنڈز کی منظوری عمل میں لائی جا رہی ہے ۔ صدر ضلع کانگریس کے سرینواس رائو نے کہا کہ ذاتی فنڈ سے ترقی کرنے کے اعلان پر عمل پیرا رہے ورنہ آنے والے دنوں میں دیہاتوں میں گھومنا مشکل ہو جائے گا ۔اس موقع پر لائبریری چیئرمین چندرکانت ریڈی ،ٹاؤن کانگریس صدر راجو ،ارکان بلدیہ محمد امجد ،محمد اسحاق شیر، محمد سلیم کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔