مختلف محکمہ جات کے پرنسپل سکریٹریز کو متبادل ذرائع آمدنی پر رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 8 فبروری (سیاست نیوز) ریاستی حکومت عوام پر اضافی مالی بوجھ عائد کئے بغیر سرکاری خزانے کی زیادہ سے زیادہ آمدنی بڑھانے کیلئے اپنی ساری توجہ مرکوز کردی ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت نے پہلے ہی کابینی سب کمیٹی تشکیل دی ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی ڈپٹی چیف منسٹر ملوبھٹی وکرامارک نے مختلف محکمہ جات کے پرنسپل سکریٹریز کے علاوہ دیگر اعلیٰ عہدیداروں کا کئی مرتبہ اجلاس طلب کرتے ہوئے آئندہ مالیاتی سال 2025-26ء کی شرح نمو کا تخمینہ فوری طور پر فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ جاریہ مالیاتی سال ٹیکسوں کے ذریعہ 1.64 لاکھ کروڑ سے زیادہ آمدنی کا حکومت نے بجٹ میں اندازہ لگایا تھا۔ تاہم پہلے 9 ماہ (اپریل تا ڈسمبر 2024ء) تک تقریباً 62 فیصد آمدنی حاصل ہوئی۔ ماباقی تین ماہ (جنوری تا مارچ) تک 38 فیصد آمدنی کی صورت میں بجٹ کا ہدف حاصل کیا جاسکے گا۔ غیرٹیکس آمدنی اور مرکزی گرانٹس کے ذریعہ 54 ہزار کروڑ روپئے وصول ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا جس میں نصف بھی حاصل نہیں ہوا، جس کے تناظر میں کابینہ سب کمیٹی متبادل راستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ گزشتہ مالیاتی سال سرکاری اراضیات کو فروخت کیا گیا۔ آوٹر رنگ روڈ کے ٹنڈرس کی منظوری کی وجہ سے نان ٹیکس ریونیو کی بھاری آمدنی حاصل ہوئی تھی۔ تلنگانہ میں گزشتہ مالیاتی سال (2023-24ء) میں رجسٹریشن ڈیوٹی کے ذریعہ 14,558 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی اس سال کی آمدنی 25 فیصد بڑھ کر 18,228 کروڑ روپئے ہونے کا بجٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ملک بھر میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سست روی کے باوجود گزشتہ سال اپریل سے نومبر تک 8 مہینوں کے دوران 9524 کروڑ روپئے موصول ہوئے۔ حکومت توقع کررہی ہیکہ قومی اور بین الاقوامی اقتصادی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے 25 فیصد شرح نمو ریکارڈ نہیں کی جاسکے گی لیکن پھر بھی اس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں قدرے اضافہ ضرور ہوگا۔ اندازہ لگایا گیا ہیکہ مارچ تک 15,500 کروڑ روپئے سے تجاوز کرسکتا ہے۔ جی ایس ٹی کی آمدنی بھی 58,594 کروڑ روپئے وصول ہونے کا اندازہ لگایا گیا تاہم 8 ماہ کے دوران صرف 33,766 کروڑ روپئے وصول ہوئے۔2