عوام کو راحت پہونچانے میں حکومت بھی عملا حصہ ادا کرے

   

برقی ‘ آبرسانی بلز و جائیداد ٹیکس کی معافی کے ذریعہ مثال قائم کرنے کی ضرورت
حیدرآباد4 جون(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے کرایہ داروں کو سہولت کی فراہمی کے نام پر مالکین جائیداد کو کرایہ فوری ادا نہ کرنے کی راحت اور مالکین جائیداد کو جبری کرایہ وصول نہ کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے ۔ کہا جارہا ہے حکومت سے ان غریب عوام کو راحت پہنچانے اقدامات کئے جارہے ہیں جو کرایہ کے مکانات میں رہتے ہیں۔حکومت کے اس اقدام سے مالکین جائیداد اور کرایہ داروں میں تنازعات میں اضافہ ہونے لگا ہے اور مالکین کا استدلال ہے کہ جن کا انحصار کرایہ کی آمدنی پر ہے ان کی گذر بسر مشکل ہوتی جا رہی ہے اور کرایہ داروں کا کہنا ہے کہ مالکین نے مکان کرایہ پر دیتے وقت 3 تا 6 ماہ کا پیشگی کرایہ بطور ڈپازٹ وصول کیا ہوا ہے اور اب وہ دو ماہ حکومت کی ہدایات پر عمل کرنے مشکل محسوس کر رہے ہیں۔ حکومت کو کرایہ داروں او ر مالکین جائیداد کے بیچ ان تنازعات کی یکسوئی کیلئے راحت کاری اقدامات کے آغاز کی ضرورت ہے۔ حکومت سے برقی‘ آبرسانی بلوں کے علاوہ جائیداد ٹیکس کی معافی کا اعلان کیاجاتا ہے تو راحت حاصل ہوسکتی ہے اور کرایہ کیلئے پریشان مالکین کو بھی احساس ہوگا کہ حکومت بھی راحت کے کامو ںمیں حصہ ادا کررہی ہے۔ حکومت کی جانب سے برقی و آبرسانی بلوں کی معافی کیلئے متعدد گوشوں سے نمائندگی اور کے باوجود حکومت اس پر کوئی لب کشا ئی نہیں کررہی ہے بلکہ بلدیہ حیدرآباد کی جانب سے جائیداد ٹیکس وصولی مہم چلائی جا رہی ہے اور جی ایچ ایم سی کے طرز پر دیگر بلدیات میں بھی یہ مہم جاری ہے۔

شہر کے علاوہ کئی نواحی علاقوں کے کئی مقامات پر حکومت کی جانب سے احکامات کے سبب مالکین جائیداد کو مشکلات کا سامنا ہے اور ان مالکین کو سنگین صورتحال کا سامنا ہے جو کرایہ کی آمدنی پر انحصار رکھتے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کی مدت کے برقی و آبرسانی بلوں کی معافی کے علاوہ اگر جائیداد ٹیکس کی معافی کا اعلان کیا جاتا ہے تو عوام کو بڑی راحت ہوگی کیونکہ موسم گرما کی شدت کے دوران مکینوں کو مکمل گھروں میں رہنا پڑا ہے اور اس دوران برقی کا زیادہ استعمال ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ کئی کمپنیوں کی جانب سے ورک فرم ہوم کو فروغ دینے کی کوشش تھی ۔ ریاست کے عوام حکومت کو ایک فلاحی حکومت تصور کرتے ہیں اور ریاستی حکومت بھی خود کو فلاحی حکومت قرار دیتی ہے لیکن حکومت کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ان حالات میں ریاست کے تمام شہریوں کی فلاح اور ان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کم از کم برقی وآبرسانی بلوں کے علاوہ جائیداد ٹیکس کی معافی کا اعلان کرے۔