عوام کو سرکاری راشن کے نام پر ٹھگنے کا آغاز

   

Ferty9 Clinic

حکومت سے امداد دلانے کے نام پر دھوکہ دہی ، محکمہ سیول سپلائز کو چوکس ہونے کی ضرورت
حیدرآباد۔25مارچ(سیا ست نیوز) آفت کے دوران جہاں غریبوں کے ہمدرد اور ان کی مددکے لئے لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں وہیں آفات کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بنانے والے ٹھگ بھی متحرک ہوجاتے ہیں جو معصوم عوام کو گمراہ کرتے ہوئے انہیں ٹھگنے کی کوشش میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے مقابلہ کیلئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے کے بعد کئی تنظیموں اور شہریوں کی جانب سے سڑکوں پر رہنے والے بے گھر افراد اور گداگروں کے علاوہ دواخانو ںمیں پریشان حال لوگوں کے کھانے کا انتظام کرتے ہوئے ایک مثال قائم کی جا رہی کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب ریاستی حکومت نے سفید راشن کارڈ گیرندوں کو 1500 روپئے ادائیگی کے اعلان سے فائدہ اٹھانے والوں نے معصوم غریب عوام کو ٹھگنے کا عمل شروع کردیا ہے اور راشن کارڈ کو آن لائن کروانے کے نام پر 200تا500 روپئے وصولی کے حربے شروع کردیئے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں عوام جو حکومت کی جانب سے حاصل ہونے والی 1500 روپئے کی امداد کے منتظر ہیں وہ 200تا500 روپئے ان درمیانی افراد کو ادا کر رہے ہیں جو کہ مجبوری اور لاعلمی کی بنیاد پران لوگوں کو رقومات ادا کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے واضح کردیا ہے کہ جن لوگوں کو حکومت کی جانبسے 1500 روپئے جاری کئے جائیں گے اس کے لئے کسی درمیانی آدمی کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو کوئی درخواست داخل کرنے کی ضرورت ہے لیکن آن لائن کرنے کے نام پر ٹھگوں کی جانب سے شروع کئے گئے دھوکہ دہی سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں غریب عوام متاثر ہورہے ہیں اورمحکمہ پولیس جو کہ سڑکوں پر مستعدی دکھا رہا ہے وہ ان ٹھگوں پر کنٹرول کے معاملہ میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہا ہے جو کہ پولیس کے رول کو مشتبہ بنا رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے کئے گئے واضح اعلان کے باوجود ان لوگوں کو ٹھگا جا رہا ہے جو 1500 روپئے کے لئے پریشان ہیں۔ پرانے شہر کے علاقوں مصری گنج‘ حافظ بابانگر‘ چندرائن گٹہ اور کئی دیگر علاقوں سے اس بات کی شکایات موصول ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی محکمہ پولیس کی جانب سے مسئلہ پر توجہ دینے کے بجائے نظر انداز کرنے والی پالیسی ناقابل فہم ہے۔ حکومت اور محکمہ سیول سپلائز کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں مزید وضاحت کرتے ہوئے عوام کو اس طرح کے ٹھگوں سے چوکس رہنے کی اپیل کریں اور عوام کو بھی چاہئے کہ وہ اس طرح کی کسی افواہ کا شکار نہ ہوں کیونکہ حکومت کے پاس ان تمام لوگوں کے کھاتوں کی تفصیلات موجود ہیںجنہیں سبسیڈی کی رقومات وصول ہوتی ہیں اور جو راشن کارڈ پر راشن حاصل کرتے ہیں ان کے بینک کھاتے جو آدھار سے مربوط کئے ہوئے ہیں حکومت کے پاس موجود ہیں۔