ہندوستانی عوام کی خاموشی یا درپیش سنگین مسائل پر بے حسی میں دن بہ دن اضافہ سے مرکز کی مودی حکومت کی من مانی بڑھ رہی ہے ۔ اور ملک کے جمہوری اقدار و سیکولر کردار اور دستوری اداروں کو کمزور کرنے والے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ زرعی قوانین کے ذریعہ ہندوستانی عوام کو مستقبل میں غذائی مسائل سے دوچار کرنے والی پالیسیوں کے خلاف کسانوں کے احتجاج کو ہندوستانی عوام نے نظر انداز کردیا ہے ۔ یہ کسان نہ صرف اپنے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں بلکہ زرعی شعبہ پر کارپوریٹ گھرانوں کے قبضہ کے بعد غذائی اجناس کی مصنوعی قلت پیدا کر کے عوام کو لوٹ لینے کے اندیشوں کے ساتھ احتجاج کررہے ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سارے ملک کے عوام کسانوں کے احتجاج میں شامل ہوجاتے ، لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے ۔ نہ صرف کسانوں کا مسئلہ بلکہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے مودی حکومت نے جو کچھ دھاندلیاں کی ہیں انہیں نظر انداز کردیا جارہا ہے ۔ نتیجہ میں عوام کو ہی مودی حکومت کی گھناؤنی پالیسیوں کا شکار ہونا پڑے گا ۔ ہندوستان کے متنازعہ زرعی قوانین کے تعلق سے کہا جارہا ہے کہ یہ قوانین مودی کے چند کارپوریٹ دوستوں کو فائدہ پہونچانے کے لیے لائے گئے ہیں ۔ کسانوں نے مکیش امبانی کی ریلائنس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور گذشتہ چند ماہ سے اپنے احتجاجی مقام پر ریلائنس جیو انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے جب کہ امبانی نے زور دے کر کہا تھا کہ ان کی کمپنی کا کارپوریٹ زراعت میں داخل ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔ ان کے سیاسی نٹ ورک اور نریندر مودی کے دور میں دولت کا انبار لگانے کے واقعات سے کسانوں کو یقین ہوگیا ہے کہ مودی حکومت نے امبانی ، اڈانی جیسے کارپوریٹ گھرانوں کو زرعی شعبہ میں اتار کر کسانوں کی روٹی روزی پر ڈاکہ ڈالنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے ۔ اس طرح کے واقعات نے ہی کسانوں اور کارپورٹس کے درمیان عدم اعتماد پیدا کردیا ہے ۔ مرکزی حکومت کی احتجاجی کسان یونینوں کے قائدین سے مسلسل بات چیت ہورہی ہے لیکن اس بات چیت کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔ مودی حکومت نے ایک طرف کسانوں کو پریشان کر رکھا ہے تو دوسری طرف غیر بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں کی حکومتوں کو بھی نشانہ پر رکھا ہے ۔ مرکز میں اقتدار کے غیر معمولی اختیارات بیجا استعمال ہورہا ہے تو اسے روکنے کے لیے ریاستوں سے بھی کوئی آواز کا نہ اٹھنا ایک صدمہ خیز صورتحال ہے ۔ مغربی بنگال سے لے کر مہاراشٹرا ، کیرالا اور دیگر ریاستوں میں ان دنوں جو کچھ ہورہا ہے اس کو آزاد ہندوستان میں جمہوریت کی پامالی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ تاہم مہاراشٹرا کی ادھوٹھاکرے حکومت یا مہاگٹھ بندھن میں شامل پارٹیوں نے مودی حکومت کو چیلنج کیا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں خاص کر مہاراشٹرا اور کرناٹک کے دیہی عوام نے مودی حکومت کے خلاف اپنے فیصلے سنانے شروع کردئیے ہیں ۔ مقامی بلدیات ، پنچایت ، انتخابات میں بی جے پی کا کمزور مظاہرہ دیکھا گیا ۔ اس کے باوجود غیر بی جے پی ریاستوں کے چیف منسٹروں نے عوام کے اندر کے مخالف مودی حکومت جذبہ سے استفادہ نہیں کیا ہے ۔ نتیجہ میں بی جے پی اور اس کے قائدین مختلف طریقوں سے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ تلنگانہ میں بی جے پی کو مضبوط کرنے کی راہ ہموار کرنے میں ٹی آر ایس نے اہم رول ادا کیا ہے ۔ اب وہ خود بی جے پی کے سامنے کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے ۔ ٹی آر ایس نے ریاست میں کانگریس کو کمزور کرنے کی جو غلطی کی تھی اس کا خمیازہ بی جے پی کو طاقتور بنانے کے ذریعہ بھگتنا پڑرہا ہے اب بھی وقت ہے کہ علاقائی پارٹیاں اپنا لائحہ عمل تیار کرلیں لیکن وفاقی ڈھانچہ کو مضبوط بنانے کی ٹھوس کوششیں نہیں کی جارہی ہیں ۔ حال ہی میں میڈیا گھرانوں میں بالاکوٹ واقعہ کو لے کر بعض حقائق منظر عام پر آئے تھے ۔ پلوامہ میں ہندوستان کے 40 سپاہیوں کی ہلاکت اور پلوامہ کی ڈرامہ بازی انتخابات میں کامیابی کی خاطر رچائی گئی تھی اس طرح کے واقعات منظر عام پر آنے کے باوجود عوام یا اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کا گریبان پکڑنے کی ہمت نہیں کی ۔ ٹی وی نیوز چیانلس کے اینکرس خاص کر ارنب گوسوامی کے پلوامہ ڈرامہ بازی سے متعلق اعتراف بھی وائرل ہوا ۔ یہ اعتراف کوئی معمولی نہیں ہے لیکن اپوزیشن نے یہ موقع بھی گنوادیا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ عوام کی کھلی آنکھ کے سامنے رونما ہونے والے واقعات کے باوجود خاموشی چھائی ہوئی ہے یہ خاموشی خود ان کا بہت بڑا خسارہ ہے ۔۔