وقف بورڈ و حج کمیٹی کے دعویدار ناراض،حقیقی کارکنوں کو نظر انداز کرنے کی شکایت،دونوں صدور نشین کو ایکسچینج آفر
حیدرآباد۔یکم مئی، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے وقف بورڈ اور حج کمیٹی کی تشکیل کو منظوری کے بعد ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین میں ناراضگی اور مایوسی کا ملاجلا ردِعمل دیکھا جارہا ہے۔ طویل عرصہ سے نامزد عہدوں کے انتظار میں موجود شہر اور اضلاع کے کئی سینئر اقلیتی قائدین کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب وقف بورڈ اور حج کمیٹی کیلئے چیف منسٹر نے ایسے قائدین کے ناموں کی منظوری دی جو ان اداروں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ میعاد کی تکمیل کے بعد دونوں اداروں کے صدورنشین کو باہم تبدیل کردیا گیا جس سے ان عہدوں کیلئے مسلسل پیروی کرنے والے کئی قائدین مایوس ہوگئے۔ حج کمیٹی اور تلنگانہ وقف بورڈ کے لئے کئی دعویدار موجود تھے جو مختلف وزراء اور عوامی نمائندوں کے ذریعہ پیروی کررہے تھے۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی اور وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور نے بھی بتایا جاتا ہے کہ نامزد عہدوں کیلئے اقلیتی قائدین کے ناموں کی سفارشی فہرست چیف منسٹر کے حوالے کی۔ باوجود اس کے وقف بورڈ کے سابق صدر نشین کو حج کمیٹی اور حج کمیٹی کے سابق صدرنشین کو وقف بورڈ منتقل کردیا گیا۔ اقلیتی قائدین کا کہنا ہے کہ 2001 میں ٹی آر ایس کے قیام کے بعد سے پارٹی کیلئے دن رات کام کرنے والے قائدین اور کارکنوں کو گزشتہ سات برسوں میں کوئی نامزد عہدہ نہیں ملا ہے۔ دونوں بااثر قائدین کو ایکسچینج آفر کے تحت نئے عہدے دیئے گئے اور یہ اسی طرح ہے جیسے وزارت میں برقرار رکھتے ہوئے قلمدان تبدیل کردیا جائے۔ دلچسپ بات ہے کہ دونوں قائدین کی حج ہاوز کی عمارت میں منزل تبدیل ہوئی ہے۔ شہر و اضلاع کے کئی قائدین نے نامزد عہدوں کیلئے دعویداری پیش کی تھی۔ حج کمیٹی اور وقف بورڈ کی تشکیل کو قطعیت کے بعد قائدین کی نظریں اب اردو اکیڈیمی، اقلیتی کمیشن اور سیٹ ون پر مرکوز ہوچکی ہیں اور پیروی میں تیزی پیدا ہوچکی ہے۔ پبلک سرویس کمیشن میں اقلیتی نمائندہ کیلئے بھی ٹی آر ایس میں کئی دعویدار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وقف بورڈ کے جملہ 10 ارکان میں 5 پرانے چہرے ہیں جن میں الیکشن کے ذریعہ منتخب ہونے والے 3 اور نامزد زمرہ میں 2 اراکین ہیں۔ر