حافظ فیض رسول قادری
گزشتہ سے پیوستہ … ادھر شیطان نے آواز دی حضور ﷺ شہید ہوگئے۔ اس آواز نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاؤں اُکھیڑ دیئے۔ پاؤں ڈگمگا گئے تو کوئی اِدھر دوڑا، کوئی اُدھر دوڑا۔
قرآن کی آیت ہے: إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ جب شیطان نے انہیں بہکا دیا۔
مسلمانوں کو اُحد میں شکست نہیں ہوئی تھی بلکہ فتح حاصل ہوئی تھی۔ اس کے متعلق بہت سی دلیلیں ہیں۔ ان میں سے ایک دلیل یہ ہے جسے شکست ہو وہ میدان چھوڑکر بھاگ جاتا ہے اور جو میدان میں کھڑا رہے اس کو شکست خوردہ نہیں کہتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو اسی میدان میں رہے تھے بھاگے تو کافر تھے۔ کوئی فرلانگ اِدھر ہوگیا کوئی فرلانگ اُدھر ہوگیا۔ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور ﷺکے پاس تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور ﷺ سے عرض کی کہ شیطان نعرہ لگا رہا ہے۔ حضور ﷺ فوراً گڑھے سے اُٹھے تو آفتاب نبوت کی کرنوں نے میدان کو گھیر لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نعرے بلند کئے تو کافروں نے تیر پھینکنے شروع کردیئے۔ تیروں کی بوچھاڑ آقا علیہ السلام کی طرف ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سامنے آ کر سینہ تان کر کھڑے ہوگئے کہ تیر مجھے لگے میرے سرکاؐر کو نہ لگے۔ حضرت سعدؓ اپنے ہاتھوں سے کافروں کے تیر روکتے ہیں اور کسی تیر سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔دراصل آقا علیہ السلام کی مبارک نگاہ پڑی تو جو تیر آتا ہے تو حضرت سعدؓ اپنے ہاتھوں سے روک کر کافروں کی طرف پھینکتے ہیں جس سے کافروں میں کھلبلی مچ گئی۔ مشرکین مکہ واصل جہنم ہو رہے ہیں۔ حضرت سعدؓ کی اس بہادری کے منظر کو دیکھا تو زبان نبوت سے ایسا اعزاز، انعام نصیب ہوا جو سوائے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ حضور ﷺنے فرمایا : سعدؓ ایک تیر اور پھینک تیرے تیر پھینکنے پر میرےماں باپ قربان۔ (جاری ہے )
حضور ﷺکے صحابہ رضی اللہ عنہم میں حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک اٹھارہ برس کی تھی خوبرو جوان صحابی ہیں، نئی نئی شادی ہوئی، شادی کی پہلی رات ہے، صبح کا وقت ہوا، غسل کی حالت میں ہیں، کان میں آواز پہنچی، الجہاد، حضور ﷺکا حکم ہے کہ جہاد کے لئے تیار ہو جاؤ۔ جب حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے سنا فوراً سوچ میں پڑ گئے۔ حضور ﷺبلا رہے ہیں اب غسل کروں کہ حضور ﷺکے حکم کی تعمیل کروں۔ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے دل سے پوچھا کیا کیا جائے غسل کریں کہ حضور ﷺ کے حکم پر پہنچیں۔ فیصلہ یہی کیا کہ جسم کی پلیدی کی طرف مت دیکھو۔ حضور ﷺکے حکم کی طرف دیکھو۔ سب کچھ اللہ کے سپرد۔ وہ سب کچھ جانتا ہے اگر محبوب ﷺ کے حکم میں تاخیر ہوگئی تو سب کچھ ختم۔ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ فوراً گھر سے نکلے۔ حضور ﷺکے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بغیر غسل کے ہی جاکر لشکر میں شامل ہوگئے۔ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے میدان احد میں بڑے بہادری کے کارنامے سرانجام دیئے۔ بالآخر حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے۔ ادھر رب تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا میرے محبوب کا غلام آرہا ہے اس کو دنیا کے پانی سے نہیں حوض کوثر کے پانی سے غسل دو۔جب غزوہ احد اختتام پذیر ہوا حضور ﷺ نے حکم دیا شہیدوں کی لاشیں اکٹھی کرو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے شہیدوں کی لاشیں اکٹھی کیں لیکن حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی لاش نہیں ملی۔ حضور نبی اکرم ﷺکی نظر اٹھی فرمایا : حنظلہ رضی اللہ عنہ کی لاش کو زمین پر تلاش کرنے والو! فرشتے اسے حوض کوثر پر غسل دے رہے ہیں۔ جب حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہم کی لاش زمین پر آئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے دیکھا حضرت حنظلہ کے بالوں سے پانی کے قطرات موتیوں کی طرح ٹپک رہے ہیں۔ اسی واسطے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو غسیل الملائکہ کہا جاتا ہے جن کو فرشتوں نے غسل دیا ہے۔
احد کا واقعہ بڑا نازک اور دلخراش ہے۔ میدان احد میں بڑا نقصان ہوا۔ سب سے پہلا اور بڑا نقصان امام الانبیاء ﷺکا زخمی ہونا۔ دوسرا حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت اور تیسرا ۷۰ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوگئے۔ تمام محدثین اور تمام دنیا کے فاتحین نے جب غزوہ احد پر نظر ڈالی کہ یہ نقصان کیوں ہوئے تو یہ راز سامنے آیا کہ آقا علیہ السلام کے حکم سے خطاء اجتہادی کی وجہ سے یہ نقصان ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جان بوجھ کر حضور ؐکا حکم نہیں توڑا۔ اس اجتہادی لغزش پر طعن و ملامت کی گنجائش نہیں بلکہ مجتہدین نے فرمایا اجتہادی خطاء پر بھی ایک درجہ ثواب ملتا ہے۔ حضور ﷺ کا حکم تھا اس درے پر کھڑے رہنا جب تک میں نہ کہوں نیچے نہ اترنا۔ ابتدائی جنگ میں جب دشمن بھاگ گئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ جنگ ختم ہوجائے تو نیچے اتر جائیں کوئی خطرہ نہیں یہ سمجھ کر وہ درے سے نیچے اترے اور دشمن نے حملہ کر دیا۔اس سے ہمیں اطاعت امیر کا سبق ملتا ہے جس میں کامیابی و کامرانی کا راز مضمر ہے۔