غزہ ‘ انسانی امداد اور اسرائیل

   

Ferty9 Clinic

جاتے ہوئے تکتے ہیں مجھے قافلے والے
میں شاخ سے ٹوٹا ہوں بڑی دیر سے چُپ ہوں
غزہ میں حالانکہ تقریبا دو سال طویل جنگ ختم ہوگئی ہے لیکن اس کے اثرات اب بھی پوری شدت کے ساتھ برقرار ہیں اور خاص طورپر اسرائیل کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے جن کے نتیجہ میں غزہ کے عوام کی زندگیاں اجیرن بنی ہوئی ہیں ۔ غزہ کے نہتے اور بے بس فلسطینی جہاں موسم کے سرد و گرم کو برداشت کرتے ہوئے ملبہ کے ڈھیر پر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں وہیں انہیں دو وقت کی غذا تک دستیاب ہونا مشکل ہوگیا ہے اور اسرائیل کی جانب سے انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد کو بھی روکنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ طویل جنگ کے دوران خاص طور پر نشانہ بناتے ہوئے فلسطینی دواخانوں کو تباہ و بربادث کردیا گیا ۔ اب شائد پورے غزہ میں ایک بھی دواخانہ اپنی درست حالت میں موجود نہیں ہے ۔ غزہ کے عوام کو ضرورت کی ادویات ملنا بھی مشکل ہوگیا ہے اور وہ غذاء اور پینے کیلئے پانی حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ گذشتہ دنوں عرب اور مسلم وزرائے خارجہ کیا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد کی فراہمی روک دی گئی ہے اور اس کے نتیجہ میں غزہ کی حالت انتہائی سنگین ہوگئی ہے اور وہاں انسانی بحران پیدا ہونے لگا ہے ۔ عرب اور مسلم وزرائے خارجہ نے اس مسئلہ کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور عالمی برادری سے اس جانب توجہ دینے کی اپیل بھی کی ہے ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کس طرح سے غاصبانہ پالیسیوں پر عمل کر رہا ہے ۔ تقریبا دو سال کی جنگ کے دوران اسرائیل نے اپنے حملوں اور فوجی کارروائیوں کے ذریعہ غزہ کو ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے اور یہاں بے طرح تباہی مچائی گئی ہے ۔ دنیا نے اس پر محض زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیں کیا اور مجرمانہ خاموشی اختیار کی تھی ۔ اب جبکہ غزہ پر انسانی بحران مسلط کیا جا رہا ہے اور غذائی امداد اور ادویات تک پہونچانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے تب بھی ساری دنیا خاموش ہے اور غزہ کے نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کو اسرائیل کے رحم و کرم پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے تو حالت مزید ابتر ہونے لگی ہے۔
جہاں تک عرب اور مسلم وزرائے خارجہ کی بات ہے تو انہوں نے بھی زیادہ کچھ کیا نہیں ہے اور صرف تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ ان تمام عرب اور مسلم ممالک کو چاہئے کہ وہ صورتحال کی سنگینی کو حقیق انداز میں دنیا کے سامنے پیش کریں۔ خود بھی اسرائیل پر دباؤ ڈالنے سے گریز نہ کریں اور دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اپنا ہمنواء بنانے کی کوشش کریں تاکہ جنگ بندی کے بعد کے حالات میں غزہ کے عوام کو دو وقت کی روٹی سکون کے ساتھ دستیاب ہوسکے ۔غزہ میں دواخانوں کو دوبارہ بحال کیا جاسکے ۔ علاج و معالجہ کی سہولت دستیاب ہوسکے اور حالات کو بہتر بنانے کی سمت پیشرفت ہوسکے ۔ ان وزرائے خارجہ کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ صرف بیان بازیوں یا اپنے طور پر اجلاس منعقد کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کرنے سے اسرائیل پر کوئی اثر ہونے والا نہیں ہے اور نہ ہی غزہ کے نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کی صورتحال میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے ۔ تبدیلی لانے کیلئے ضروری ہے کہ اسرائیل پر دباؤ بنایا جائے ۔ انسانی بنیادوں پر راحت اور امداد پہونچانے میں حائل کی گئی رکاوٹوںکو دور کیا جائے ۔ ایک منظم طریقہ کار یا میکانزم بین الاقوامی نگرانی میں قائم کیا جائے تاکہ کسی رکاوٹ کے بغیر انسانی بنیادوں پر امدادی ساز و سامان کو غزہ تک پہونچانے کو یقینی بنایا جاسکے ۔ امریکہ اوراقوام متحدہ کو بھی اس معاملے میں سرگرم رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ صرف اسرائیل کی چاپلوسی کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل بری الذمہ نہیں ہوسکتے ۔
اسرائیل کی ظالمانہ اور جابرانہ کارروائیوںاور اس کے فیصلوں کی وجہ سے غزہ میں جو ص ورتحال ہے وہ انسانیت کو شرمسار کرنے والی ہے اور ساری دنیا اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جو انتہائی افسوسناک ہے ۔ یہ درست ہے کہ غزہ میں جنگ بند ہوگئی ہے تاہم بالواسطہ جنگ اب بھی جاری ہے ۔ غزہ کے عوام کی مشکلات اور ان کے مصائب میں کسی طرح کی کمی نہیں آئی ہے ۔ وہ بھوک اور بیماری کا شکار ہیں۔ پینے کیلئے پانی تک انہیں دستیاب نہیں کروایا گیا ہے ۔ اگر دنیا اس معاملے میں بھی خاموش تماشائی ہی بنی رہتی ہے تو یہ ساری دنیا کیلئے ایک کلنک سے کم نہیں ہے ۔ دنیا کو فوری طور پر حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔