غزہ حملے کا جواز : کرپشن کیس میں نیتن یاہو نے گواہی ملتوی کرادی

   

اسرائیلی اخبار ماریو کے مطابق نیتن یاہو کا یہ اقدام سیاسی جادوگری قرار

تل ابیب: غزہ پر بڑے حملے کو جواز بناکر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کرپشن کے مقدمہ میں گواہی ملتوی کر انے میں کامیاب ہوگئے۔ الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کے اخبار ماریو نے خبر دی ہے کہ استغاثہ نے ‘سیکیورٹی کی پیش رفت’ کی وجہ سے اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے میں ان کی گواہی منسوخ کرنے کی درخواست پر رضامندی ظاہر کی ہے ۔ماریو کے مطابق نیتن یاہو نے منگل کے روز اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے غزہ پٹی پر نئے حملوں کی نگرانی کرنے کے چند گھنٹوں بعد ان کی گواہی منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔نیتن یاہو پر رشوت خوری، دھوکا دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں، وہ طویل عرصے سے التوا کا شکار 3 مقدمات میں سے ایک میں پیر کے روز عدالت کے سامنے پیش ہوئے تھے ، جسے انہوں نے سیاسی ‘جادوگری’ قرار دیا ہے ۔واضح رہے کہ جنوری کے مہینے میں غزہ میں شروع ہونے والی جنگ بندی کو نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ مشاورت کے بعد آج صبح ختم کرتے ہوئے غزہ پر وحشیانہ بمباری کروائی، جس کے نتیجے میں 308 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جب کہ درجنوں زخمی دواخانوں میں ہیں۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صہیونی فورسز کی مسلسل بمباری کے بعد غزہ شہر مسلسل دھماکوں سے گونجتا رہا، اسرائیل نے حملہ ایسے وقت میں کیا جب لوگ گھروں، پناہ گزین کیمپوں اور اسکولوں کی عمارتوں میں سو رہے تھے ۔غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 232 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، تاہم طبی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 308 افراد شہید ہوئے تھے ۔