پیرس: غزہ پٹی پر اپنا کنٹرول مسلط کرنے اور فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔فرانس کے ایک سفارتی ذریعہ نے العربیہ/الحدث سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے”۔انہوں نے مزید کہا کہ “ہم غزہ کے حوالے سے عرب-یورپی اتفاق رائے پر کام کر رہے ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ “اگر اب دو ریاستی حل حاصل نہیں کیا گیا تو یہ کبھی حاصل نہیں ہو سکے گا”۔قابل ذکر ہے کہ 20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ٹرمپ نے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے اور بڑے پیمانے پر تعمیر نو کی کوششوں میں شامل ہونے کا خیال پیش کیا۔اس کے بعد انہوں نے اسی خیال کو کئی بار دہرایا، غزہ کے مکینوں کو ان کی بار بار مخالفت کے باوجود انہوں نے فلسطینیوں کو دوسرے ممالک خاص طور پر مصر اور اردن میں منتقل کرنے کی بات کی۔انہوں نے گذشتہ رات بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت کیلئے پرعزم ہیں۔ وہ ساحلی پٹی کے کچھ حصے مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو تعمیر نو کی کوششوں میں مدد کیلئے دے سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ غزہ کو مستقبل کی ترقی کیلئے ایک اچھی جگہ میں بدل دے گا۔ٹرمپ کی تجویز پر متعدد عرب اور مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی جانب سے فوری طور پر سخت تنقید کی گئی۔ ان کے اس موقف کوعالمی قوانین کیخلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی بین الاقوامی قوانین اور ضوابط سے متصادم ہے۔