واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس لازم ہے کہ وہ بقیہ معاملات حل کریں تا کہ غزہ میں فائر بندی کا معاہدہ طے پایا جا سکے۔ جمعرات کے روز ہیٹی میں ایک پریس بریفنگ میں بلنکن نے بتایا کہ فائر بندی کے معاہدے کے تقریبا 90% حصے پر اتفاق ہو چکا ہے تاہم بعض اہم امور ابھی تک معلق ہیں جن میں غزہ کی پٹی کے جنوب میں مصر کے ساتھ سرحد پر واقع فلاڈلفیا (صلاح الدین) راہ داری شامل ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیلی قیدیوں اور فلسطینی گرفتار شدگان کے تبادلے کے حوالے سے بھی بعض اختلافات ہیں۔بلنکن نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ دنوں میں ہم اسرائیل کو اور (قطر اور مصر) حماس کو حل کی نوعیت کے حوالے سے اپنے تینوں کے خیالات پیش کریں گے۔امریکی وزیر خارجہ کے مطابق فریقین پر لازم ہے کہ وہ ان معلق معاملات کے حوالے سے اتفاق رائے تک پہنچیں۔ واشنگٹن آئندہ دنوں میں مذاکرات کی میز پر مزید خیالات پیش کرے گا۔ادھر حماس تنظیم نے جمعرات کے روز واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے معاہدے تک پہنچنے کیلئے اسرائیل پر حقیقی دباؤ ڈالے … جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ “جلد معاہدہ طے پانے کا کوئی امکان نہیں”۔جنگ شروع ہونے کے گیارہ ماہ بعد اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر جنگ بندی کے معاہدے کی راہ میں روڑے اٹکانے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ اس وقت نیتن یاہو کو اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے معاہدے کرنے کے حوالے سے اندرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان افراد کو سات اکتوبر کے حملے کے دوران میں اغوا کر لیا گیا تھا۔