غنڈہ گردی اور سرکاری مشنری کے استعمال کے باوجود کانگریس کا بہتر مظاہرہ

   

امیدواروں اور کارکنوں کو ہراساں کیا گیا ، الیکشن کمیشن سے نمائندگی کرنے کانگریس کا فیصلہ
حیدرآباد: پردیش کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ گریٹر حیدرآباد کے صدرنشین سمیر ولی اللہ نے رائے دہی کے موقع پر ٹی آر ایس کی جانب سے سرکاری مشنری کے بیجا استعمال اور مجلس پر غنڈہ گردی کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی دھاندلیوں کے باوجود کاروان ، نامپلی اور جوبلی ہلز اسمبلی حلقوں میں رائے دہندوں نے کانگریس امیدواروں کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ لہذا تینوں اسمبلی حلقوں میں نتائج کانگریس پارٹی کیلئے حوصلہ افزا رہیں گے۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں سے ٹی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس کی جانب سے بھاری رقومات تقسیم کی گئیں اور کانگریس کے امیدواروں اور کارکنوں کو دھمکیاں دی گئیں۔ پولیس اور دیگر سرکاری مشنری کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کو نہ صرف انتخابی مہم میں رکاوٹ پیدا کی گئی بلکہ رائے دہی کے موقع پر انہیں ہراساں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے پولنگ ایجنٹس کو دھمکیاں دے کر پولنگ اسٹیشنوں سے نکالنے کی کوشش کی گئی۔ اس قدر ہراسانی اور غنڈہ گردی کے باوجود کانگریس امیدواروں اور کارکنوں نے جرات اور حوصلہ کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور پولنگ اسٹیشنوں میں بیٹھے رہے۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے کانگریس کی شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ سرکاری مشنری الیکشن کمیشن کے بجائے حکومت کے اشارہ پر کام کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس امیدواروں نے دولت اور وسائل کی کمی کے باوجود سرگرم انتخابی مہم چلائی اور عوام کے روبرو ترقی اور فلاح و بہبود کا ایجنڈہ پیش کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلدی انتخابات میں کانگریس کا مظاہرہ متاثر کن رہے گا اور عوام فرقہ پرست ایجنڈہ پر عمل کرنے والوں کو مسترد کردیں گے ۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ نئے شہر کے علاوہ پرانے شہر کے اسمبلی حلقوں میں بھی کانگریس امیدواروں اور کارکنوں کو ہراساں کرنے کی شکایت ملی ہے۔ انتخابی دھاندلیوں اور غنڈہ گردی کے واقعات کے سلسلہ میں الیکشن کمیشن سے نمائندگی کی جائے گی۔