الہ آباد : اُترپردیش میں الہ آباد ہائیکورٹ نے غیرقانونی طورپر حراست میں رکھے جانے والے شہری کو معاوضہ حکومت کی جانب سے ادا کرنے پر زور دیا ہے ۔ عدالت نے کہاکہ سرکاری حکام کی جانب سے ہراسانی پر معاوضہ دینے سے نہ صرف انفرادی طورپر تسلی ہوگی بلکہ متعلقہ فرد کو کچھ اطمینان حاصل ہوگا نیز سماجی برائی کو دور کرنے میں مدد بھی ملے گی ۔ ہائیکورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ اس طرح متاثرہ کسی بھی شہری کو 25 ہزار روپئے معاوضہ دینے کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے ۔ جسٹس سوریہ پرکاش اور جسٹس شمیم احمد کی بنچ نے ریاستی حکومت کے اس پالیسی فیصلے پر اطمینان ظاہر کیا کہ ریاستی حکومت کے کسی افسر کی جانب سے کوئی شہری کو غیرقانونی طورپر حراست میں رکھا جائے تو اُسے 25 ہزار روپئے کا معاوضہ ادا کیا جائے گا اور خاطی عہدیدار کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی جائے گی ۔ عدالت دو افراد کی غیرقانونی حراست کے معاملے کی سنوائی کررہی تھی ، جنھیں مسلسل حراست میں رکھا گیا ، حالانکہ اُنھوں نے شخصی مچلکہ اور دیگر کاغذات جمع کرادیئے تھے ۔ چنانچہ اُنھوں نے اپنی غیرقانونی حراست کے جواز کو عدالت میں چیلنج کیا ۔ عدالت نے کہاکہ جو بھی سرکاری حکام دستوری یا قانونی گنجائشوں کی خلاف ورزی میں کام کریں ، اُنھیں جوابدہ بنایا جائے اور قانون کے مطابق اُن کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ ہائیکورٹ نے فاضل عدالت کی ایک رولنگ کا حوالہ دیتے ہوئے ریمارک کیا کہ جیسے ہی کوئی شکایت کنندہ بے قصور پایا جائے ، اُسے مزید حراست میں نہیں رکھا جاسکتا ۔