غیرمسلموں کے ساتھ تعلقات میں اسلام کی رہبری

   

حافظ صابر پاشاہ
اسلام محض چند عبادات یا رسوم کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے عقیدے، فکر، کردار اور سماجی رویّوں کو سنوارتا ہے۔ یہ وہ دین ہے جس کا خطاب کسی ایک نسل، قوم یا مذہبی گروہ تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت اس کا مخاطب ہے۔ اسی عالمگیریت کا تقاضا ہے کہ اسلام انسانوں کے باہمی تعلقات کو عدل، اخلاق اور انسانیت کی بنیاد پر استوار کرتا ہے —خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیرمسلم۔قرآنِ مجید کی صدائے عام ہے: ﴿ قُلْ یَا أَیُّهَا النَّاسُ إِنِّی رَسُولُ اللّٰهِ إِلَیْکُمْ جَمِیعًا﴾یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام کسی طبقاتی یا نسلی تقسیم کا علمبردار نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح و نجات کا پیغامبر ہے۔ جو دین پوری انسانیت کیلئے آیا ہو، وہ نفرت، جبر اور عداوت کی تعلیم نہیں دے سکتا۔اسلام نے عقیدے کے معاملے میں مکمل آزادی دی ہے۔اسی لئے قرآن اعلان کرتا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی اُمت بنا دیتا، مگر اس نے انسان کو اختیار دیا تاکہ آزمائش کا مقصد پورا ہو۔ یہ اختیار ہی انسانی شرف اور وقار کی بنیاد ہے۔اسلامی تعلیمات میں غیرمسلموں کے ساتھ تعلقات کا محور عدل و انصاف، حسنِ اخلاق اور احترامِ انسانیت ہے۔ قرآن و سنت ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ کسی قوم یا فرد سے اختلاف، ہمیں ظلم اور ناانصافی پر آمادہ نہ کرے۔ یہاں تک کہ مظلوم اگر غیرمسلم بھی ہو تو اس کی آہ آسمان کو چیر دیتی ہے، کیونکہ ظلم کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں اور انصاف کسی ایک طبقے کی میراث نہیں۔فقہاءِ امت نے غیرمسلموں سے تعلقات کی نوعیت کو نہایت حکمت کے ساتھ واضح کیا ہے۔ دل کی وہ محبت جو عقیدے سے جڑی ہو، صرف اہلِ ایمان کے لئے خاص ہے، مگر ہمدردی، خیر خواہی، خوش اخلاقی اور انسانی احترام—یہ سب وہ اقدار ہیں جو غیرمسلموں کیلئے بھی ہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اخلاق کے ذریعے دل جیتیں، کردار کے ذریعے دعوت دیں اور انصاف کے ذریعے اپنی سچائی ثابت کریں۔سیرتِ نبوی ﷺ اس باب میں ہمارے لئے روشن ترین مثال ہے۔ طائف کی گلیوں میں لہولہان وجود، مکہ کی فتح کے وقت معافی کا اعلان، دشمن قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک یہ سب واقعات اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ اسلام طاقت کے باوجود رحم، حلم اور درگزر کا درس دیتا ہے۔اسلام نے غیرمسلم پڑوسی کے حقوق کو بھی وہی اہمیت دی جو مسلمان پڑوسی کے حقوق کو حاصل ہے۔ تحائف کا تبادلہ، دعوت قبول کرنا، بیماری میں عیادت، مالی امداد، تعزیت، حتیٰ کہ جنازے کے احترام تک یہ سب وہ روشن مثالیں ہیں جو اسلامی تہذیب کو انسانیت کی سب سے مہذب روایت بناتی ہیں۔ اسلام نے عبادت گاہوں کے احترام کے ساتھ ساتھ غیرمسلموں کو مسجد میں داخل ہونے کی بھی اجازت دی، تاکہ وہ مسلمانوں کے کردار، نظم و ضبط اور عبادت کی روح کو دیکھ سکیں۔ آج کے پُرآشوب اور مذہبی کشیدگی سے بھرپور ماحول میں، اسلام کی یہ تعلیمات پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہیں۔ اسلاموفوبیا کا مقابلہ نعروں سے نہیں بلکہ کردار سے ہوگا؛ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ اخلاق سے دینا ہوگا؛ اور اختلاف کے باوجود انسان کو انسان سمجھنا ہوگا۔