تما م متعلقہ شعبہ جات سے مشاورت کا فیصلہ، مارچ تک تمام زیر التواء رجسٹریشن کی تکمیل
حیدرآباد۔ غیر زرعی اراضیات اور جائیدادوں کے رجسٹریشن کے طریقہ کار کو آسان بنانے کیلئے تشکیل دی گئی کابینی سب کمیٹی کا اجلاس آج حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ کابینی سب کمیٹی کے صدرنشین وزیر عمارات و شوارع پرشانت ریڈی کے علاوہ ارکان کے ٹی راما راؤ، محمد محمود علی، ای دیاکر راؤ، ٹی سرینواس یادو کے علاوہ چیف سکریٹری سومیش کمار نے شرکت کی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دھرانی پورٹل پر رجسٹریشن میں دشواریوں سے متعلق شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے عوام کو درپیش مشکلات کو آسان بنانے کیلئے رہنمایانہ خطوط تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ رئیل اسٹیٹ اور دیگر شعبہ جات سے مشاورت کے بعد کابینی سب کمیٹی حکومت کو سفارشات پیش کرے گی۔ ایل آر ایس سے غیر منظورہ جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن کے بارے میں بھی سب کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پرشانت ریڈی نے کہا کہ رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کیلئے بعض تجاویز پر غور کیا گیا۔ چیف منسٹر نے رجسٹریشن کو شفاف بنانے اور کرپشن سے پاک کرنے کیلئے سب کمیٹی کو ہدایت دی ہے۔ پرشانت ریڈی نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ شعبہ کی دشواریوں کو ختم کرنے کیلئے چیف منسٹر نے واضح ہدایات دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتداء میں رجسٹریشن میں دشواریاں تھیں لیکن یہ کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کے عمل میں تیزی پیدا کرنے کیلئے دفاتر کو 4 حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ ایسے دفاتر جہاں عوام کا زائد ہجوم ہے وہاں اسٹاف کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ زیر التواء رجسٹریشن کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ تک تمام زیر التواء رجسٹریشن مکمل کرلئے جائیں گے۔ پرشانت ریڈی نے بتایا کہ کابینی سب کمیٹی رجسٹریشن سے متعلق تمام شعبہ جات سے تجاویز حاصل کرے گی۔ ایک ہفتہ میں تمام مسائل کا حل تلاش کرلیا جائے گا۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ حکومت رجسٹریشن کے سلسلہ میں عوام کو کسی بھی دشواری سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔ رجسٹریشن کے بارے میں بینکرس میں موجود شبہات کو دور کیا جائے گا۔ موجودہ رجسٹریشن کے طریقہ کار اور دستاویزات کو بینکرس قبول کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رجسٹریشن کے عمل میں تیسرے فریق اور عہدیداروں کی غیر ضروری مداخلت کو کم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف سکریٹری اور عہدیداروں نے کافی محنت کے بعد دھرانی پورٹل تیار کیا ہے اور اس میں تکنیکی خرابیوں کو دور کرنے کے اقدامات کئے گئے۔
