حیدرآباد۔ 5 جولائی (سیاست نیوز) اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بھیم ریڈی کے خلاف غیر محسوب اثاثہ جات کیس میں اسے گرفتاری کے بجائے محض نوٹس دینے کا معاملہ تلنگانہ پولیس اور سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کردیا۔ 2 جولائی کو اے سی بی عہدیداروں نے ایس بھیم ریڈی کے مکان کی اچانک تلاشی لی جس میں کروڑہا روپے کے اثاثہ جات بشمول اراضیات، فلیٹس، قیمتی ویلاز اور دو کیلو سے زائد سونا رکھنے کا انکشاف ہوا تھا۔ اے سی بی نے بھیم ریڈی کے خلاف انسداد رشوت ستانی ایکٹ 1988 کے دفعہ 13(1)(b) اور 13(2) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت اکثر خاطی عہدیداروں کو گرفتار کرکے جیل بھیجا جاتا ہے لیکن ڈی ایس پی بھیم ریڈی کو گرفتار کرنے کی بجائے صرف ایک نوٹس دی گئی اور اسے گرفتاری سے بچا لیا گیا۔ اینٹی کرپشن بیورو کے اس اقدام نے سیاسی حلقوں اور تلنگانہ پولیس میں ہلچل پیدا کردی کیونکہ حکومت کے اس جانبدارانہ رویہ حکومت کی بدنامی کا سبب بنتا نظر آرہا ہے۔ ڈی ایس پی بھیم ریڈی کے حیدرآباد، رنگاریڈی کے علاوہ بین ریاستی جائیدادیں بشمول کرناٹک کے مختلف اضلاع اور بنگلورو میں بھی جائیدادیں رکھنے کا انکشاف ہوا تھا جنہیں بے نامی افراد کے نام پر رکھا گیا تھا۔ بھیم ریڈی کے مکان سے اے سی بی نے تلاشی کے دوران ایک ایسی ڈائری برآمد کی تھی جن میں کروڑہا روپے کے غیر قانونی اور غیر محسوب ملکیتوں کا لکھا جھکا موجود ہے۔ اس کے باوجود بھی بھیم ریڈی کو نوٹس دے کر ضمانت پر رہا کرنے کا اقدام اینٹی کرپشن بیورو کی ساکھ اور کارکردگی پر سوالیہ نشان پیدا کردیا ہے۔ اسی ایکٹ کے تحت سابق میں گرفتار کئے گئے سرکاری ملازمین نے حکومت کے اس جانبدارانہ رویہ کی مخالفت کرنا شروع کردیا ہے اور عنقریب عدلیہ سے رجوع ہونے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔ سمجھا جاتا ہیکہ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کپشن بیورو چارو سنہا جو ریاست کی سینئر خاتون آئی پی ایس عہدیدار ہے کو مبینہ طور پر سیاسی دباؤ کے تلے یہ اقدام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے! ب؍F